Courtesy:ڈان نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہواوے پر عائد پابندیوں میں کچھ کمی کے وعدے کیے گئے تھے مگر اب تک اس حوالے سے کوئی اقدامات دیکھنے مین نہیں آئے۔

رواں سال مئی میں ہواوے پر تجارتی پابندیوں کا نفاذ ہوا تھا مگر امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے اس موقع پر چینی کمپنی کو پابندیوں سے ماہ کا استثنیٰ عارضی لائسنس کے اجرا کے ذریعے دیا گیا۔ امریکی بلیک لسٹ میں شامل کمپنی کے امریکی کمپنیوں سے کاروبار کے حوالے سے عارضی لائسنس کی مدت آئندہ ہفتے 19 اگست کو ختم ہورہی ہے۔

تاہم خبررساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے مزید 90 دن کے لیے عارضی لائسنس جاری کیا جائے گا جس کی بدولت ہواوے ٹیلی کام نیٹ ورکس کے ساتھ کام کرسکے گی جبکہ اس کے فونز کو سافٹ وئیر اپ ڈیٹس بھی ملتی جائیں گی۔ امریکی محکمہ تجارت نے اس رپورٹ پر بات کرنے ےس انکار کیا ہے۔ تاہم یہ اقدام حیران کن نہیں ہوگا کیونکہ امریکا کی جانب سے اس پابندی کو چین سے تجارتی تنازع میں فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور عارضی لائسنس کا ایک بار پھر اجرا اسی حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔

مئی میں عارضی لائسنس کے اجرا کے موقع پر امریکی سیکرٹری آف کامرس نے اپنے بیان میں کہا تھا ‘ یہ عارضی لائسنس آپریٹرز کو متبادل انتظامات کے لیے وقت فراہم کرتا ہے جبکہ محکمے کو اس دوران یہ تعین کرنے کا موقع مل سکے گا کہ وہ طویل المعیاد بنیادوں پر امریکی اور غیر ملکی ٹیلی کمیونیکشن کمپنیاں جو اس وقت ہواوے کے آلات پر انحصار کررہے ہیں، کے لیے انتظامات کرسکے’۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ لائسنس آپریٹز کو ہواوے موبائل فونزاور براڈ بینڈ نیٹ ورکس پر آپریشنز جاری رکھنے کی سہولت فراہم کرے گا’۔ امریکی پابندیوں کے بعد سے ہواوے نے اپنا آپریٹنگ سسٹم ہارمونی رواں ماہ متعارف کرایا ہے جو اینڈرائیڈ لائسنس منسوخ ہونے کی صورت میں کمپنی کے فونز میں گوگل کے آپریٹنگ سسٹم کی جگہ لے گا جبکہ چینی کمپنی گوگل میپس کے مقابلے میں اپنا میپ سسٹم لانے کی بھی تیاری کررہی ہے۔