Courtesy:ڈان نیوز

بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کرتے ہوئے شیڈول کے بغیر ہی دریاؤں میں پانی چھوڑ دیا جس کے باعث دریائے سندھ سمیت دیگر دریاؤں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے جس کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے سے گنڈا سنگھ کے مقام سے پانی کا بڑا ریلا گزرے گا۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ریلا ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک سے لے کر ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک تک ہوسکتا ہے جس کا 19 اگست کو صبح 11 بجے تک گنڈا سنگھ پہنچنے کا امکان ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمٹ اتھارٹی نے تمام متعلقہ محکموں کو اس خطرے سے متعلق مراسلہ بھی جاری کردیا جس میں متعلقہ محکموں کو ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری کرنے کا مقصد بھاری جانی و مالی نقصان سے بچنا ہے۔

سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کے بعد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے پر بھی غور کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار رات گئے تک پیشگی حفاظتی انتظامات اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے رہے اور صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔

اجلاس میں صوبائی وزیر ڈیزاسسٹر مینجمنٹ، صوبائی وزیر آبپاشی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس، انتظامی افسران، امدادی سرگرمیوں سے متعلقہ اداروں کے حکام شریک ہوں گے۔ دوسری جانب ساہیوال، ملتان اور بہاولپور ڈویژنز کے کمشنرز، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی، بہاولپور، لودھراں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

خیال رہے کہ بھارت ہر سال مون سون کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تعمیر ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد شیڈول کے مطابق پانی چھوڑ دیتا ہے۔ بھارت کی جانب سے چھوڑا ہوا پانی دریائے ستلج، راوی اور چناب میں آتا ہے جس سے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے لگتی ہے۔ تاہم پاکستان کے پاس اچانک آنے والے اس پانی کے ریلے سے نبرد آزما ہونے کا انتظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے دریاؤں سے متصل کئی دیہات زیر آب آجاتے ہیں۔