Courtesy:ڈان نیوز

پنجاب پولیس اور بیوروکریسی کو حال ہی میں دیے گئے تنخواہوں کے پیکج پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔

یہ تنازع حکومت کی جانب سے افسران کے لیے الاؤنس کی رقم مقرر کرنے کے معیار پر کھڑا ہوا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے حال ہی میں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تعینات کردہ افسران کو ایگزیکٹو الاؤنس اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تعینات کردہ تمام پولیس افسران کے لیے مقررہ ڈیلی الاؤنس کا اعلان کیا تھا۔

اس کے تحت پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے افسران کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا جبکہ پروونشل مینجمنٹ سروسز (پی ایم ایس) کے افسران کو بھی پی اے ایس افسران کی طرح تنخواہوں میں اضافہ دیا گیا۔ تاہم جب پولیس افسران اور بیوروکریٹس کی مجموعی تنخواہ کا تقابلہ کیا گیا تو نتیجے میں واضح ترین فرق کی نشاندہی ہوئی جس سے الاؤنس مقرر کرنے کے معیار پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔

اس حوالے سے باخبر عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب پولیس افسران کو علم ہوا کہ نئے پیکج کے تحت پی اے ایس یا پی ایم ایس کا گریڈ 17 کا ایک افسر گریڈ 21 میں کام کرنے والے پولیس افسر سے زیادہ تنخواہ لے سکتا ہے تو ان کے درمیان چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔ چنانچہ اعلیٰ افسران کی درخواست پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس عارف نواز خان اس معاملے کو رواں ہفتے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ تنخواہوں کے پیکج کے مطابق پولیس افسران کی تنخواہ میں 12 ہزار روپے کا معمولی اضافہ جبکہ بیوروکریٹ کو ڈیڑھ لاکھ کی اضافی رقم حاصل ہوگی۔ اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے پولیس افسران کے لیے ایف ڈی اے جاری کردیا ہے جو 2005 میں منجمد کردیا گیا تھا۔ مذکورہ الاؤنس کو 2013 کے ریٹ پر ایڈجسٹ کر کے گریڈ 7 سے گریڈ 21 تک کے پولیس افسران کے لیے 2 ہزار سے 12 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا جو ان کی موجودہ بنیادی تنخواہ کے 5 فیصد سے بھی کم ہے۔

دوسری جانب سے ایگزیکٹو الاؤنس کی مد میں دیگر محکموں کے افسران کی بنیادی تنخواہ میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ الاؤنس سے پی اے ایس یا پی ایم ایس افسران کی تنخواہیں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک بڑھ جائیں گی جبکہ پولیس افسران کے لیے یہ اضافہ تقریباً 12 ہزار 600 سے 28 ہزار روپے تک محدود رہے گا۔ اس حوالے سے ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پولیس کو الاؤنس دینا مراعات میں شامل نہیں بلکہ یہ ان کا حق تھا جو کافی عرصے پہلے انہیں مل جانا چاہیے تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی تناؤ بھری نوکری اور اس سے منسلک خطرات کے ساتھ ڈیوٹی کے طویل دورانیے کے باعث پولیس افسران کو ایگزیکٹو الاؤنس دیا جانا چاہیے۔