Courtesy: جاویدچودھری ڈاٹ کام

ایک طرح کی الجی (کائی) میں ایک ایسا مرکب دریافت ہوا ہے جو 2 خطرناک اقسام کے تیسرے درجے کے کینسر کو بھی ختم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق ایک خاص قسم کی الجی میں سرطان ختم کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے ایک قسم کی الجی سے ایک مرکب نکالا ہے جو سوئیبا مائیڈ اے کہلاتا ہے جو دماغ اور چھاتی کے شدید کینسر کے خلیات کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ مرکب خلیات کا خون کاس پر کام کرنے والے سائنسدان کا کہنا ہے کہ اب تک کینسر کے خلافایسی کوئی دوا نہیں بنائی گئی ہے جو اس طرح سے کام کرسکے۔ ’ ہم نے (سرطانی) خلیات کو ہلاک کرنے کا ایک اور راستہ ڈھونڈا ہے۔ یہ الجی ڈاکٹر کیری مک فیل نے 8 سال بعد پانامہ میں اسکوبا ڈائیونگ کے دوران دریافت کی تھی۔ یہ ایک طرح کا سائنوبیکٹیریا ہے جو سبز نیلی الجی بھی کہلاتی ہیں۔ ان کی 3 اقسام میں اینٹی کینسر اجزا پائے گئے ہیں اور یہ الجی بحیرہ احمر اور جنوبی افریقا کے ساحلوں پر بھی چٹانوں سے چپکی ہوئی پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس سے وہ اہم مرکب الگ کیا گیا۔

اس حیرت انگیز مرکب کے خواص بہت الگ دکھائی دیئے اور اس میں اینٹی کینسر اجزا کا اشارہ ملا۔ ماہرین کے مطابق زمینی پودوں پر تو بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن سمندر کے اندر موجود پودوں اور جڑی بوٹیوں پر کوئی خاص تحقیق نہیں ہوئی ہے۔ اس الجی میں خاص بات یہ ہے کہ یہ دماغی ٹیومر یا گلائیو بلاسٹوما اور بریسٹ کینسر کی رسولیاں کو تباہ کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغی کینسر کے لیے ضروری ہے کہ رسولی تک خون پہنچانے والی نالیوں کا راستہ روکا جائے تاکہ خلیے کو بھوکا رکھ کر ماردیا جائے اور یہ مرکب عین یہی کام کرتا ہے۔ی نالیوں سے رابطہ توڑدیتا ہے اور بیمار خلیہ ہلاک ہوجاتا ہے۔