Courtesy:ڈان نیوز

روس نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ جاری مسئلہ کشمیر کے دو طرفہ حل کے لیے اقدامات کرے۔

یہ روسی پیغام بھارت کی جانب سے مقبوضہ علاقے کی حیثیت میں تبدیلی کے اعلان کے بعد پاک-بھارت تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کی جانب سے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کو پہنچایا گیا۔

خیال رہے کہ شاہ محمود قریشی اس وقت خطے کی صورت حال سے عالمی برداری کو آگاہ کرنے کے حوالے سے سفارتی مشن پر ہیں اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں، اس اجلاس کے لیے پاکستان نے درخواست کی تھی تاکہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی حیثیت تبدیل کرنے اور اس کے بعد وہاں کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے عالمی برادری کو آگاہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ روس، سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن ہے اور حالیہ کچھ سالوں میں ماسکو اور اسلام آباد کے تعلقات میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے لیکن اس کے باوجود روس، بھارت کا مضبوط اتحادی ہے اور اس نے گزشتہ ہفتے بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے کی حمایت کی تھی۔ روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں دونوں ممالک کے عہدیداروں کی ملاقات کے حوالے سے بتایا گیا کہ ‘کشیدگی کو کم کرنے کے لیے زور دیا گیا کیونکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری سیاسی اور سفارتی تنازعات کو حل کرنے کے لیے دو طرفہ بات چیت کے علاوہ دوسرا اور کوئی راستہ موجود نہیں’۔

روسی وزیر خارجہ نے مزید نشاندہی کی کہ پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے آغاز کے لیے تحریر کیے جانے والے خط پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ان کے مندوب کو اس معاملے پر ‘موقف برقرار رکھنے’ سے متعلق گائیڈ لائن دی گئی ہے اور وہ ‘اس پر قائم رہیں گے’۔ علاوہ ازیں دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے روسی ہم منصب کو بتایا کہ ‘بھارت کا اقدام امن اور سلامتی کے لیے خطرناک ہے’، وزیر خارجہ نے روسی ہم منصب کو خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں جعلی آپریشن کیا جاسکتا ہے تاکہ پاکستان پر الزام عائد کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ، اگر ہوتا ہے تو، اس سے خطے کے امن کو مزید نقصان پہنچے گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے روسی ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کی سنگینی صورت حال سے آگاہ کیا جہاں گزشتہ 10 روز سے کرفیو نافذ ہے اور ہر قسم کے روابط پابندی عائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اس وقت بھارتی فورسز کے ہاتھوں شدید جبر کا سامنا کررہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور سلامتی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا’۔

سیکیورٹی کونسل کو لکھا گیا خط
گزشتہ روز دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے ساتھ شاہ محمود قریشی کا سیکیورٹی کونسل کے صدر کو تحریر کیے گئے خط کا عکس بھی منسلک کیا گیا تھا جس میں پاکستانی وزیر خارجہ نے عالمی طاقتوں کی توجہ نہ صرف مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے اضافے اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگی بندی کے حوالے سے 2003 میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی جانب دلوائی گئی تھی بلکہ بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کی جانب بھی دلوائی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کے لیے دہشت گرد تیار ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے خط میں عالمی طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس وقت واضح خطرہ موجود ہے کہ بھارت ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ساتھ نیا تنازع کھڑا کرنا چاہتا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صوت حال سے عالمی برادری کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سیکیوڑی کونسل کو فوری اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تھی جس میں بھارت کے حالیہ جارح اقدامات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔