Courtesy:ڈان نیوز

امریکا کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں کوئی ردو بدل نہیں کیا گیا یعنی واشنگٹن اب بھی اسے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع خطہ تسلیم کرتا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے دی گئی نیوز بریفنگ میں ترجمان مورگن اورٹاگس نے کشمیر کو ’یقینی طور پر ایک انتہائی اہم مسئلہ‘ قرار دیا جسے امریکا قریب سے دیکھتا رہے گا۔ اس موقع پر جب مورگن اورٹاگس سے پوچھا گیا کہ کیا کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے تو جواب میں انہوں نے کہا کہ ’نہیں، اور اگر ایسا ہوتا تو یقیناً میں یہاں اس کا اعلان نہیں کروں گی لیکن نہیں ایسا کچھ نہیں ہے‘ کیونکہ ہمارے لیے یہ کوئی انتہائی اہم شخص جیسا کے صدر اعلان کرتے ہیں‘۔ جنوبی ایشیائی خطوں کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ترجمان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ امریکا، پاکستان اور بھارت کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر ’ناقابلِ یقین حد تک مصروف‘ ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے آئین میں کشمیر کو دی گئی خصوصی اہمیت واپس لینے کے بعد جن ممالک سے فوری طور پر رابطہ کیا تھا ان میں امریکا سرِفہرست ہے۔ دوسری جانب بھارت نے اپنے انتہائی غیر مقبول فیصلے کے خلاف کسی بھی قسم کے ردِعمل سے بچنے کے لیے اپنے زیرِ تسلط کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی بریفنگ میں بھارت کی کارروائی اور اس کے نتائج پر بھی بات کی گئی۔

اس ضمن میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیکل پومپیو نے بھارتی اور پاکستانی ہم منصوبوں سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ مائیک پومپیو نے بھارتی امورِ خارجہ کے سربراہ سے حال ہی میں بینکاک میں ملاقات کی تھی اور ’وہ اپنے ہم منصبوں سے روزانہ کی بنیاد پر بات چیت کرتے ہیں‘۔ خطے میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے متعدد عہدیداروں کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بھارت اور پاکستان کے ساتھ کئی رابطے ہیں، ابھی کچھ عرصہ قبل ہی وزیر اعظم عمران خان بھی یہیں تھے، یہ صرف کشمیر کی وجہ سے نہیں ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دیگر بہت سے مسائل میں سے کشمیر ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جس پر امریکا، پاکستان اور بھارت کے ساتھ کافی قریب سے کام کر رہا ہے۔’ اس موقع پر جب ان کے سامنے وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کا تذکرہ کیا گیا جس میں انہوں نے بھارت کو کشمیر میں نسل کشی کا مورد الزام ٹھہرایا تو مورگن اورٹاگس نے کہا کہ ’میں اس سے زیادہ مزید کچھ کہنا نہیں چاہتی جتنا ہم کہہ چکے ہیں کیونکہ یہ ایک نازک معاملہ ہے‘۔