Courtesy:ڈان نیوز

ملک بھر کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ کراچ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں طوفانی بارشوں کے نئے سلسلے کا آغاز ہو گیا۔

بارشوں کا یہ نیا سسٹم خیلج بنگال میں بننے والے ہوا کے کم دباؤ کے سبب پاکستان میں داخل ہوا جس کے تحت 9 اگست (جمعہ) سے 12 اگست (پیر) تک سندھ کے ضلع میرپور خاص، ٹھٹہ، حیدر آباد، کراچی، نواب شاہ ڈویژن میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں موسلا دھار بارشوں سے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

مذکورہ سسٹم کے تحت سندھ کے مختلف علاقوں میں کل جبکہ کراچی میں آج تیز بارش کا آغاز ہوا جس میں کلفٹن اور ناظم آباد کے علاقے میں کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) جیسی کیفیت بھی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زوردار گونج دور دور تک سنائی دی۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں مختلف اوقات میں برسنے والی تیز بارش کے بعد بجلی کی فراہمی بند ہوگئی جبکہ متوقع بارش اور ہفتہ کا دن ہونے کے سبب دفاتر میں بھی حاضری کم رہی۔

تیز بارش کے سبب نیشنل ہائی وے سمیت نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ خیال رہے کہ مون سون کا سیزن ملک میں پوری آب و تاب سے موجود ہے جس کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ہفتہ کے روز راولپنڈی، گجرانوالہ، لاہور، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، ڈی جی خان ڈویژن، اسلام آباد اور کشمیر میں کہیں کہیں جبکہ ساہیوال، بہاولپور ڈویژن میں چند مقامات پر تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں مالاکنڈ، ہزارہ، راولپنڈی، لاہور، گجرانوالہ، فیصل آباد ڈویژن، اسلام آباد اور کشمیر میں چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

احتیاطی تدابیر
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے متعدد افراد کی ہلاکتوں کے سبب آج ہونے والے متوقع بارشوں سے پہلے ہی کراچی میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ‘کے الیکٹرک’ نے شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کی مہم شروع کردی تھی۔

اس کے تحت شہریوں کو ٹوٹے ہوئے تاروں، کھمبوں کے قریب نہ جانے، برقی مصنوعات کو گیلے ہاتھوں یا ننگے پاؤں نہ چھونے، بارشوں کے موسم میں بل بورڈز، درختوں، بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمرز کے نیچے نہ کھڑے ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں بارش کے دورن کھمبوں میں آنے والے کرنٹ کے باعث قربانی کے لیے لائے گئے کئی جانور بھی ہلاک ہوگئے تھے جس کی وجہ سے قربانی کے جانوروں کو خصوصاً کھمبوں سے نہ باندھنے کا انتباہ جاری کیا گیا۔