Courtesy:ڈان نیوز

جسم میں پانی کی کمی انسانی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے، اس سے تھکاوٹ طاری ہوتی ہے جبکہ دیگر مسائل کا بھی سانا ہوسکتا ہے۔

یہاں تک کہ معمولی کمی بھی چڑچڑے پن یا توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔ یعنی یہ تو واضح ہے کہ پانی انسانی جسم کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ صبح، دوپہر اور رات کو بہت زیادہ مقدار میں پانی پینا شروع کردیں کیونکہ یہ جسمانی ضروریات کے لیے کوئی موثر طریقہ نہیں۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

Appalachian اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر آپ 2 گھنٹے کے اندر پانی پینے کے عادی ہیں تو پیشاب زیادہ آئے گا جبکہ اس کی رنگت بھی بالکل شفاف ہوگی، جس کا مطلب ہوتا ہے کہ جسم میں پانی صحت کے لیے فائدہ مند نہیں۔ درحقیقت پیشاب کی رنگت شفاف ہونا جسم میں بہت زیادہ پانی کی مقدار کا عندیہ دیتا ہے، جو چند خطرات کا باعث بن سکتا ہے جن میں سب سے اہم نمکیات کی کمی ہے جس سے جسم میں کیمیائی عدم توازن ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر بہت زیادہ مقدار میں خالی پیٹ پانی پیا جائے تو وہ وہ نظام ہاضمہ میں سلپ ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ جو لوگ ایک وقت سے دوسرے وقت کے کھانے کے درمیان پانی کی بوتلوں پر بوتلیں پی لیتے ہیں، مگر کچھ کھاتے نہیں، وہ پیشاب کی شکل میں زیادہ تر اسے خارج بھی کردیتے ہیں، مگر اس دوران زہریلا مواد جسم سے خارج نہیں ہوتا۔

محققین کے مطابق خالی پیٹ بہت زیادہ پانی پینا جسم کی اندرونی صفائی کے عمل میں بہتری نہیں لاتا، بلکہ نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے پیشاب کے راستے بہت زیادہ نمکیات کی مقدار ضرور خارج ہوسکتی ہے، جس سے جسم میں نمکیات کی سطح میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے جو کبھی کبھار جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے، خصوصاً اگر وہ فرد ایتھلیٹ یا زیادہ ورزش کرنے کا عادی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک عام افراد کی بات ہے انہیں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے مناسب وقت پر کچھ مقدار میں پانی پینا چاہیے تاکہ گردے اوورلوڈ نہ ہو اور جسم میں زیادہ پانی رہ سکے۔

کھانے سے کچھ پہلے یا درمیان میں پانی پینا بھی جسمانی ہائیڈریشن کا اچھا ذریعہ ہے کیونکہ خوراک سے امینو ایسڈ، چکنائی، وٹامنز یا منرلز وغیرہ پانی کے ساتھ جسم کا حصہ بن کر اسے فائدہ مند بنادیتے ہیں۔ آسان الفاظ میں ایسا نہیں کہ پانی کم پینا شروع کردیں، مگر یہ مقدار اتنی زیادہ بھی نہ ہو جس سے صحت متاثر ہوجائے یا ہر وقت ٹوائلٹ کے ہی چکر لگانا پڑے۔