Courtesy:ڈان نیوز

اسرائیل کے ناکام خلائی مشن کی ذمہ دار فضائی کمپنی نے سرکاری اور نجی فنڈز کی مدد سے چاند پر قدم رکھنے کے لیے دوبارہ منصوبہ بندی کا اعلان کردیا۔خیال رہے کہ سرکاری کمپنی اسرائیلی ایرواسپین انڈسٹریز (آئی اے آئی) اور غیر منافع بخش کمپنی اسپیس آئی ایل کی جانب سے تیارہ کردہ روبوٹ کرافٹ بریشیٹ دو روز قبل اپنے مشن کے دوران تباہ ہوگیا تھا جس کے بعد اسرائیل کا چاند پر قدم رکھنے والا تیسرا ملک بننے کا خواب دھرا رہ گیا تھا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسپیس آئی ایل کے صدر مورس کیہن کا کہنا تھا کہ ‘چھٹی کے دنوں میں میرے پاس سوچنے کا وقت تھا جس دوران مجھے حوصلے کا موقع ملا اور عوام کی جانب سے تعاون بھی حاصل رہا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں آج نئے منصوبے بریشیٹ ٹو کا اعلان کررہا ہوں’۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مشن میں تقریباً 100 ملین ڈالر کا خرچہ آیا تھا جس میں زیادہ تر حصہ مورس کیہن جیسے کئی نجی افراد نے ڈالا تھا۔

مورس کا کہنا تھا کہ اس مشن میں اسرائیلی حکومت کا حصہ صرف 30 لاکھ ڈالر تھا اور اب ڈونرز دوبارہ نئے منصوبے کے لیے بھی فنڈنگ کریں گے لیکن سرکاری پیسہ اسرائیلی عوام کے منصوبے کے لیے ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم سرکاری پیسے پر انحصار نہیں کریں گے’۔ مورس کیہن نے کہا کہ بریشیٹ ٹو کی ٹاسک فورس جلد کام شروع کرے گی اور ‘ہم ایسا کام شروع کریں گے جس کو مکمل کریں اور چاند پر ہم اپنا جھنڈا لہرا سکیں’۔

اسرائیلی سرکاری سرکاری کمپنی آئی اے آئی نے ایک بیان میں کہا کہ مورس کیہن کی زیر سرپرستی اسپیس آئی ایل کے ساتھ مزید مشن کا حصہ بننا خوشی کی بات ہوگی۔ واضح رہے کہ اب تک صرف تین ممالک امریکا، روس اور چین ایسے ہیں جو چاند تک پہنچنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔اسرائیل کی پہلی کوشش کی ناکامی کی تصدیق اسرائیلی ایرواسپیس انڈسٹریز کے ایک عہدیدار نے کی تھی اور کہا تھا کہ ’ہمارا خلائی جہاز یقیناً چاند کی سطح پر کریش ہوچکا ہے‘، ان کا کہنا تھا کہ طے شدہ لینڈنگ کے مقام پر خلائی جہاز کا ملبہ موجود ہے۔خلائی جہاز کا انجن لینڈنگ سے قبل عین وقت پر منقطع ہوا اور جب تک توانائی بحال ہوئی خلائی جہاز بحفاظت اترنےکے لیے انتہائی تیزی سے حرکت کررہا تھا۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ پہلے جمود کی پیمائش کرنے والا یونٹ خراب ہوا جس کے باعث خرابیوں کا سلسلہ چل نکلا جس کے بارے میں ہم ابھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔