Courtesy: اردوپوانٹ

نواز شریف اپنے دشمنوں میں اضافہ نہ کریں،کسی ایک جنرل سے اختلاف ہے تو پوری فوج سے دشمنی مت کریں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ نواز شریف اپنے دشمنوں میں اضافہ مت کریں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے حلقہ انتخاب چکری میں بلدیاتی نمائندوں سے ملاقات کے دوران چوہدری نثار علی خان نے نواز شریف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دشمنوں میں اضافہ مت کریں۔کسی ایک جنرل سے اختلاف ہے تو پوری فوج سے دشمنی مت کریں۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

عدلیہ کو بھی برا بھلا کہا گیا ،آج اسی عدلیہ نے آپ کو ریلیف دیا ہے۔سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ میں نظریاتی مسلم لیگی ہوں، میں نے اس جماعت کی ایک ایک انیٹ رکھی۔ مجھے بڑی بڑی پیکشش ہوئیں لیکن میں نے کبھی اپنے ضمیر اور خمیر کا سودا نہیں کیا۔ملک انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے، حکومت روزانہ کی بنیاد پر 3 ارب کا قرض لے کر ملک چلا رہی ہے۔

حکومت نے ضلع کونسل ختم کر دی،ہم عدالت میں جائیں گے اس نظام کو بحال کریں گے۔حکومت کو نیا بلدیاتی نظام انتہائی ناقص ہے۔موجودہ حکومت کبھی بھی بلدیاتی الیکشن نہیں کرا سکتی۔جب کہ اس سے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارنے کہا کہ میں ایسا کوئی کام نہیں کرتا جومیرے ضمیر پر بوجھ ہو۔

ووٹ دینے والے اطمینان رکھیں ان کے ساتھ دونمبری نہیں ہوگی۔ چوہدری نثار نے کہا کہ کبھی صوبائی اسمبلی کے لیے ووٹ نہیں مانگا، اس بار بھی لوگوں نےووٹ دئیے لیکن کیا ہوا اس کی کبھی وضاحت کروں گا۔انہوںنے کہاکہ نوازشریف کو مشورہ دیا لیکن انہوں نے نہیں مانا، اس کے بعد مجھے ٹکٹ نہیں دیا گیا، مخالف جماعت سے عہدوں کی پیشکش ہوئی لیکن میں نے یہ کام نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اپنے علاقے کے لوگوں کے بغیرکہے کام کیے، ان کے فون اور خطوں پر کام ہوئے۔انہوں نے کہاکہ میرے مخالفین سے بھی پوچھیں کہ انہوں نے اپنے حلقے میں کیا کام کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ علاقے کو بجلی دی، سڑکیں بنوائیں اور پھر ان کی مرمت بھی ہوتی رہی۔چوہدری نثارنے کہا کہ مجھ سے پارٹی بدلنے کا گلہ نہیں ہے، خدمت نہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ اس بات کا شکوہ کیا جاتا ہے کہ علاقے میں فاتحہ خوانی کیلئے کبھی نہیں آیا۔انہوںنے کہاکہ احتساب کا سلسلے کو حکومت نے خود متنازعہ بنایا ہے،نیب ایک خود مختار ادارہ ہے ،اگر وہ آزادی سے کام کرنے دیتی تو آج یہ حالات نہیں ہوتے۔