Courtesy: جاویدچودھریڈاٹکام

آسٹریلوی پولیس نے میلبرن میں مختلف ممالک کے سفارتخانوں کو مشتبہ پیکجز بھیجنے والا 48 سالہ مبینہ ملزم گرفتار کرلیا۔ فیڈرل پولیس کا کہنا تھا کہ مبینہ ملزم کو وکٹوریا ریاست میں اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ مذکورہ شخص نے ملبرن، کینبیرہ اور سڈنی میں مختلف سفارتخانوں کو 38 پارسل بھیجے تھے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

پولیس کی جانب سے اب تک 29 پیکجز بر آمد کرلیے گئے ہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ بقیہ 9 پارسلز سے عام عوام کو کوئی خطرہ نہیں۔پولیس کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص کو ملبرن کی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں اس پر ڈاک کے ذریعے خطرناک مواد بھیجنے کے الزامات لگائے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ان الزامات کے تحت ملزم کو 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

آسٹریلیا میں غیر ملکی سفارتخانوں میں اس وقت ایک ہلچل مچ گئی جب ایک ہی دن میں پاکستان سمیت 14 ممالک کے سفارتخانوں کو مشتبہ پیکٹ موصول ہوا جو کیمیکل پاڈر سے بھرا ہوا تھا۔میلبورن میں واقع پاکستانی قونصل خانے کی ایک خاتون سفارتکار نے مشتبہ پیکٹ موصول کیا جو بظاہر ایک لفافے جیسا تھا لیکن جب اسے کھولا گیا تو اس کے اندر کیمیکل پاڈر موجود تھا۔پاکستانی سفارتخانے کو موصول ہونے والے پیکٹ میں موجود کیمکیل پاڈر کو ‘اسبیٹوس’ کہا جاتا ہے۔مشتبہ پیکٹس پاکستان کے علاوہ امریکا، جرمنی، اٹلی، بھارت، اسپین، سوئٹزرلینڈ، مصر اور نیوزی لینڈ سمیت 14 ممالک کے سفارتخانوں کو موصول ہوئے۔