Courtesy: جاویدچودھریڈاٹکام

وفاقی حکومت نے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کیلئے ملک بھر کی موٹر ویز کو انشورڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا،کسی بھی حادثہ یا دہشتگردی کی کارروائی کی صورت میں متاثرین کو 5 لاکھ معاوضہ اداکیاجائیگا، ریسکیو کیلئے ہیلی کاپٹر خریدے جائیں گے ،ذرائع کے مطابق وزارت تجارت کے ذیلی ادارہ این آئی سی ایل نے سمری کابینہ کو بھیجی جس میں ملک بھر کی موٹر ویز کو انشورڈ کرنے کی تجویز دی گئی۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

ذرائع کے مطابق موٹر وے پر جانیوالی ہر کار سے 30 روپے ،ویگن اور کوسٹر50 روپے جبکہ مسافر بس سے 80 روپے انشورنس کی مد میں چارج کرنے کی تجویز دی گئی ، منصوبہ کے تحت سب سے پہلے اسلام آباد سے لاہور موٹروے ایم ٹوپر انشورنس پالیسی لاگو کی جائیگی، اسکے بعد ایم ون اسلام آباد پشاور پر لاگو ہوگی، پالیسی کی منظوری کے تین ماہ بعد مری اسلام آباد موٹر وے پر اس پالیسی کو لاگو کیا جائے گا۔جبکہ 6 ماہ کے اندر پالیسی کا دائرہ ایم فور ملتان تک پھیلایا جائے گا۔

اسکے بعد سندھ تک اسکو پھیلایا جائے گا۔اس حوالے سے این آئی سی ایل ذرائع نے تصدیق کی کہ موٹر ویز انشورنس پالیسی کی سمری کابینہ کو بھیجی جا چکی ہے جو کابینہ سے منظوری کے بعد نافذالعمل ہوگی۔ذرائع نے بتایا کہ موٹر وے پر حادثہ کی صورت میں پولیس رپورٹ پر حادثہ کا شکار ہونیوالوں کو معاوضہ کی ادائیگی کی جائے گی،انہوں نے بتایا کہ موٹر وے کے ہر 50 کلومیٹر پر ایمبولینس سروس کی سہولت دی جائے گی اور ہر 100 کلومیٹر پر ٹراما سنٹر قائم ہوگا جسے ریسکیو 1122 کے تحت چلایا جائیگا، انشورنس پالیسی کے 2 سال کے اندر ریسکیوآپریشنز کیلئے ہیلی کاپٹر خریدے جائیں گے ۔حادثہ یا کسی دہشتگردی کے واقعہ کی صورت میں وفات پانے والے افراد کے لواحقین کو 5 لاکھ اور زخمی ہونیوالے کو اڑھائی لاکھ معاوضہ ملے گا۔