Courtesy: ڈیلی پاکستان

موٹاپا مردوخواتین دونوں کے لیے خطرناک یکساں خطرناک خیال کیا جاتا ہے تاہم اب سائنسدانوں نے اس کے برعکس انکشاف کرتے ہوئے موٹاپے کی شکار خواتین کو انتہائی بری خبر سنا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق نئی تحقیق کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”موٹاپا مردوں کی نسبت خواتین کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے اور ان کو ہارٹ اٹیک آنے کے امکانات موٹاپے کے شکار مردوں کی نسبت بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 4لاکھ 70ہزار ایسے مردوخواتین کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور نتائج مرتب کیے جو موٹاپے کا شکار تھے۔اس تحقیق جہاں مردوں کی نسبت خواتین کے لیے موٹاپا زیادہ خطرناک ہونے کے شواہد سامنے آئے وہیں بعض امراض کی شکار خواتین کے لیے اس کے مزید مہلک ہونے کا انکشاف بھی ہوا۔ نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا کہ ”جن خواتین کو دوسری قسم کی ذیابیطس ہو ان کو موٹاپے سے ہارٹ اٹیک آنے کے امکانات ان خواتین کی نسبت 96فیصد زیادہ ہوتے ہیں جنہیں ذیابیطس نہیں ہوتی۔ ذیابیطس کے مریض مردوں میں یہ اضافہ صرف 33فیصد ہوتا ہے۔“

سائنسدانوں کا مزید کہنا تھا کہ ” وہ خواتین جو شدید ہائپرٹینشن یا ہائی بلڈپریشر کی مریض ہوں ان کو موٹاپے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک آنے کا خطرہ 152فیصد زیادہ ہو جاتا ہے، جبکہ ان امراض میں مبتلا مردوں میں یہ اضافہ 71فیصد ہوتا ہے۔موٹاپے کی شکار جو خواتین سگریٹ نوشی بھی کرتی ہیں ان کو ہارٹ اٹیک آنے کا خطرہ 246فیصد زیادہ ہو جاتا ہے جبکہ سگریٹ نوش مردوں میں یہ اضافہ 123فیصد ہوتا ہے۔“ برٹش ہارٹ فاﺅنڈیشن کے پروفیسر میٹن ایوکیرن کا کہنا تھا کہ ”یہ تحقیق ایک انتہائی اہم وارننگ ہے کہ دل کی بیماری کسی میں تفریق نہیں کرتی۔ چنانچہ ہمیں اب اس عام تاثر کو غلط سمجھنا چاہیے کہ یہ صرف مردوں کو ہی لاحق ہوتی ہے۔ اس تحقیق میں ثابت ہو گیا ہے کہ یہ مردوں سے زیادہ خواتین کو لاحق ہوتی ہے۔“