Courtesy: ڈیلی پاکستان

انسانوں کی دنیا پر مشینوں کی حکمرانی کا دور آن پہنچا ہے۔ ہر وہ کام جو کبھی انسان کیا کرتے تھے اب روبوٹس کے حوالے ہو رہا ہے، حتٰی کہ جنگ لڑنے کی ذمہ داری بھی روبوٹ سنبھال رہے ہیں۔ اور چین نے مستقبل کی جنگ کا نقشہ ابھی سے تیار کرنا شروع کر دیا ہے، اسی لئے تو ملک کے ذہین ترین طلبا و طالبات کو مصنوعی ذہانت کے حامل ہتھیار بنانے کے لئے بھرتی کر لیا ہے۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

سائوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق چین میں سکولوں کے ذہین ترین بچوں کو منتخب کر کے ابھی سے ان کی ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ وہ آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کے حامل ہتھیار اور روبوٹ بنا سکیں۔ اس خصوصی ٹیم میں منتخب ہونے کیلئے 5000 سے زائد ذہین طلبہ و طالبات کا ٹیسٹ لیا گیا تھا، اور ان میں سے صرف 31 کا انتخاب کیا گیا، جن میں سے 27 لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں۔

بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ملک کا اعلیٰ ترین ہتھیاروں پر تحقیق کرنے والا ادارہ ہے جس کے زیر نگرانی مصنوعی ذہانت کے حامل ہتھیار تیار کرنے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ مستقبل کی جنگ کے لئے انٹیلیجنٹ ہتھیاروں کا پروگرام شروع کرنا اور اس کے لیے ملک کے ذہین ترین سٹوڈنٹس کا انتخاب کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ چین جنگ کے میدان میں مصنوعی ذہانت کے حامل ہتھیاروں اور روبوٹس کو استعمال کرنے کیلئے کس قدر سنجیدہ ہے۔