Courtesy: ایکسپریس

میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تحقیقات کرانے کا جاپانی وزیراعظم کا مطالبہ تسلیم کرلیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپانی وزیراعظم شنزو آبے اور میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی کے درمیان ٹوکیو میں اہم ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ جاپانی وزیراعظم نے روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کی فوج اور انتہا پسند بدھسٹ کے مظالم کا معاملہ اُٹھاتے ہوئے انسانیت سوز سلوک کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

جاپانی وزیراعظم شنزو ابے کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام سے میانمار حکومت پرعدم اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جسے دور کرنے کے لیے مثبت اقدامات اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ جاپانی وزیراعظم شنزو ابے نے پناہ گزینوں کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا پناہ گزینوں کی باعزت واپسی اور آباد کاری کے لیے جاپان ہر قسم کا تعاون کرے گا۔

جاپانی وزیراعظم کے مطالبے پر آنگ سان سوچی نے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہماری انویسٹی گیشن اتھارٹی بااختیار اور طاقت ور ہے جو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔ میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی نے روہنگیا پناہ گزینوں کی بحالی اور آباد کاری کے لیے جاپانی وزیراعظم شنزو ابے کے دلی جذبات کی قدر کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور اس حوالے سے مشاورت کی یقین دہانی بھی کرائی۔