Courtesy: ایکسپریس

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ماربل، بجری ،گرینائیٹ ،کوئلہ ،کرومائیٹ، ڈولومائیٹ، آئرن، اوور لائم اسٹون، لیٹرائیٹ ،میگنیسائیٹ، سوپ اسٹون سمیت پاکستان میں کان کنی (مائیننگ) سے پیدا ہونے والی 48 معدنیات پرایڈوانس انکم ٹیکس عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

ذرائع نے ایکسپریس کوبتایا کہ ایف بی آرنے ازخود ان48 معدنیات کی فی ٹن قیمتوں کا تعین کرلیا ہے اورمجوزہ ایڈوانس ٹیکس پر ڈرافٹ ایس آراونمبر1226 جاری کرکے آرا طلب کرلی ہیں۔ ان معدنیات میں سے بیشتر کا تعلق تعمیراتی شعبے سے ہے جن میں ماربل، گرینائیٹ، نمک ،بجری، سلیکا وغیرہ شامل ہیں جبکہ کچھ معدنیات انرجی اور کیمیکل انڈسٹری سے تعلق رکھتی ہیں۔

ماربل اونیکس انڈسٹری نے مجوزہ ایڈوانس ٹیکس اور ایف بی آر کی زمینی حقائق کے برعکس قیمت کے تعین پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر نے ماربل بلاکس کی فی ٹن قیمت کاتعین حقیقی قیمت سے400 فیصدزائد 7ہزارروپے کیاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوامیں مائینز میں فی ٹن خام ماربل کی قیمت 900 تا1200روپے جبکہ بلوچستان میں 1200سے2500 روپے ہے۔

آل پاکستان ماربل ایسوسی ایشن کے چیئرمین ثناء اللہ خان نے ایکسپریس کے استفسار پربتایا کہ ماربل سیکٹرکو ایف بی آر کی ازخود قیمت کے تعین اورمجوزہ ایڈوانس ٹیکس پر تحفظات ہیں کیونکہ ایڈوانس ٹیکس کے نفاذ سے ماربل سمیت دیگر معدنیات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ماربل سیکٹرسے لاکھوں غیرہنرمند اور ناخواندہ افراد کا روزگار وابستہ ہے جو ماربل کی صنعتوں کی ممکنہ بندش سے بے روزگار ہوجائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی کانوںسے سالانہ72 لاکھ ٹن ماربل نکالا جاتا ہے جونہ صرف ملک میں استعمال ہوتا ہے بلکہ مختلف ممالک کو برآمد بھی کیا جاتا ہے۔انھوں نے ایف بی آر حکام کو تجویز دی کہ اگراسے اینے ریونیو وصولی کے حجم میں اضافہ کرنا ہے تو وہ درآمد کی جانے والی مختلف معدنیات پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرے تاکہ مقامی صنعتوں کو تحفظ بھی مل سکے۔