Courtesy: ایکسپریس

سوئس اور پاکستانی ماہرین نے مشترکہ تحقیق کے بعد ایک ایسا نیا جین دریافت کیا ہے جو آنکھوں میں نقائص لاکر اندھے پن کی وجہ بنتا ہے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف جنیوا اور جامشورو لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے ماہرینِ جینیات نے پاکستانی خاندانوں کا بغور جائزہ لیا ہے۔ برسوں تحقیق کے بعد ماہرین نے ایک خاندان کے جینوم کا مطالعہ کیا ہے اور کئی خاندانوں میں نوٹ کیا کہ ان میں ایک خاص جین MARK3 اپنی عام (نارمل) ہیئت کے مقابلے میں خاصا تبدیل شدہ ہے۔ جینیات (جنیٹکس) کی زبان میں اس فرق کو ’’میوٹیشن‘‘ کہتے ہیں۔

اس ضمن میں ماہرین نے ایک خاندان کا مطالعہ کیا جس کے تینوں بچے متاثرہ تھے اور ان میں تبدیل شدہ مارک تھری جین پایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ان بچوں کے ماں اور باپ دونوں ہی قریبی رشتہ دار (کزنز) تھے جبکہ خود ان کے والدین بھی آپس میں قریبی عزیز تھے۔ اس طرح بچوں نے وراثت میں ماں اور باپ، دونوں ہی سے متاثرہ یا تبدیل شدہ مارک تھری جین کی ایک ایک کاپی (نقل) پائی تھی۔

’ہم نے ایک ایسے نئے جین میں مرض پیدا کرنے والی تبدیلی دیکھی جو اس سے قبل کبھی دریافت نہیں ہوئی تھی۔ یہ مارک تھری جین ہے جس میں تبدیلی سے خاندان کے تین بچے متاثر تھے۔ تینوں میں فائسس بلبائی (آنکھوں کے سفید حصے سکڑنے کا) مرض مسلسل بڑھ رہا تھا،‘ ڈاکٹر محمد انصر نے بتایا جو یونیورسٹی آف جنیوا میں محقق ہیں۔ ان بچوں کی آنکھوں کے ڈولے دھیرے دھیرے سکڑ کر انہیں نابینا بنارہے تھے، یہاں تک کہ 30 سال کی عمر میں وہ بالکل غائب دیکھے گئے ہیں۔

اس تحقیق کےلیے ماہرین نے پہلے ان جین کو دیکھا جن سے پہلے کوئی مرض منسوب تھا اور اس معاملے میں آنکھوں کے متاثرہ مرض کو دیکھا گیا ۔ دوسرے مرحلے میں خاندان کے تمام اراکین کے، خواہ وہ آنکھوں کی بیماری کے شکار تھے یا نہیں، ڈی این اے کا جائزہ لیا گیا۔ اس طرح والدین اور بچوں کے ڈی این اے کو بغور دیکھا گیا۔ لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماہرین کو کس طرح معلوم ہوا کہ متاثرہ مارک تھری جین ہی آنکھ سکڑنے کی وجہ ہے؟

انسانی مرض بمقابلہ پھل مکھی

ماہرین نے مارک تھری جین کی تصدیق کےلیے ایک مشہور پھل مکھی ڈروسِفیلا کو استعمال کیا۔ انسانی جینیاتی امراض پیدا کرنے والے 75 فیصد جین اس مکھی میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی بنا پرایک حد تک اس کی ’’مرکب آنکھ‘‘ (کمپاؤنڈ آئی) کی جینیاتی ترکیب بھی انسانوں سے ملتی جلتی ہے۔ اس ٹیم نے انتہائی احتیاط سے ڈروسِفیلا مکھی کے مارک تھری جین کو تبدیل کردیا اور اس کے بعد اس کی آنکھ بھی سکڑنا شروع ہوگئی۔ اس طرح تصدیق ہوگئی کہ یہ جین ہی مرض کی اہم وجہ ہے۔ اسی بنا پر پوری دنیا کے سائنسداں اس مکھی کو بطور ایک ماڈل استعمال کرتے ہیں۔

کیا پاکستان جینیاتی امراض کا گڑھ ہے؟

اس کا جواب 100 فیصد ہاں میں ہے جس کی بڑی وجہ نسل در نسل خاندان میں ہونے والی شادیاں ہیں۔ اس بنا پر عجیب و پراسرار امراض جنم لے رہے ہیں جن میں سے اکثر پر تحقیق ہی نہیں کی جاتی۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 50 فیصد شادیاں خاندانوں میں ہی ہوتی ہیں اور اس طرح جینیاتی امراض ضرب کھا کر جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اسی سال ملکی اور بین الاقوامی ماہرین نے ایسے کئی جینیاتی امراض دریافت کیے ہیں جو صرف پاکستانی آبادی میں ملے ہیں۔ مثلاً اے ڈی سی وائی تھری جین میں تبدیلی شدید موٹاپے اور سونگھنے کی ناقص صلاحیت کی وجہ بنتی ہے جو اس سال بطورِ خاص پاکستان میں دریافت ہوا ہے۔

دوسری جانب کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے پاکستانی آبادی میں موجود جینیاتی تبدیلیوں کا پہلا ڈیٹابیس مرتب کیا ہے۔ اس میں 1000 ایسی جینیاتی تبدیلیوں کو شامل کیا گیا ہے جو 120 امراض یا سنڈروم کی وجہ بن رہی ہیں۔ اسی بنا پر پاکستان میں جینیاتی امراض کے ایک مرکز کی تعمیر ناگزیر ہے تاکہ پوری آبادی میں پراسرار اور ان سنی بیماریوں کا جائزہ لیا جاسکے۔

دوسری جانب ہمیں طبّی (کلینیکل) جینیات داں اور جدید انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے تاکہ اس ملک کا مستقبل صحت مند بنایا جاسکے۔ محمد انصر نے ایکسپریس ویب سائٹ کو بتایا کہ مذکورہ سوئس پاکستان مشترکہ منصوبہ چار سال قبل شروع کیا گیا تھا جس میں کئی پاکستانی ماہرین اور اداروں کا اشتراک شامل ہے۔ تحقیقی گروپ نے ایسی جینیاتی تبدیلیوں پر زیادہ تحقیق کی ہے جو ذہنی صلاحیت اور بصارت کو متاثر کررہی ہیں۔

واضح رہے کہ اسی ٹیم نے پاکستانی آبادی میں 35 ایسے نئے جین یا جینیاتی تبدیلیاں نوٹ کی ہیں جنہیں تحقیقی مقالوں کی صورت میں شائع کروایا جائے گا۔ اس لحاظ سے ہم مزید حیرت انگیز انکشافات دیکھ سکیں گے۔ اس مشترکہ تحقیق میں پاکستانی ٹیم کے سربراہ لیاقت یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد وریا ہیں جنہوں نے مریضوں کے خون اور ڈی این اے کے نمونوں، مریضوں کے معائنوں اور متاثرہ خاندانوں کا طبی ڈیٹا جمع کیا ہے۔

جینیاتی تحقیق کا غالب کام یونیورسٹی آف جنیوا کے پروفیسر اسٹائلیانوس اینتونارکس اور ان کے رفقا نے انجام دیا ہے جبکہ ہیوسٹن میں واقع بیلر کالج کے پروفیسر ہیوگو بیلن نے مارک تھری جین کو ڈروسفیلا ماڈل پر آزمایا ہے۔