Courtesy: ڈان نیوز

بین الاقوامی صحافیوں کی وکالت کرنے والے ادارہ رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے ترکی میں قائم سعودی سفارتخانے سے 2 اکتوبر کو گمشدہ ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر خود مختار بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ صحافی کی گمشدگی سعودی عرب کے صحافیوں اور بلاگرز کے خلاف کریک ڈاؤن کے پیش نظر سامنے آئی۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ‘اے پی’ کی رپورٹ کے مطابق ترک میڈیا نے مبینہ طور پر 15 رکنی سعودی ’قاتل گروہ‘ کی تصاویر اور استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بعد مشکوک حرکات کی ویڈیو جاری کردیں، جس کی وجہ سے سعودی ریاست پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوگیا۔سعودی عرب نے تاحال ان تصاویر پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ترک حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف لکھنے والے صحافی کو ٹیم نے قتل کیا۔

آر ایس ایف نے اپنی ویب سائٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب میں ستمبر 2017 سے اب تک 15 سے زائد صحافی اور بلاگرز کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’زیادہ تر کیسز میں حکام کی جانب سے گرفتاری کو ظاہر نہیں کیا گیا اور کسی بھی عہدیدار نے نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں ہیں اور ان پر کس جرم کا مقدمہ چل رہا ہے۔قبل ازیں ترک وزارت خارجہ کے ترجمان ہامی اکسوئے نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی حکام نے کیس میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس ہی سلسلے میں سعودی سفارت خانے کی تلاشی بھی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے لیے سفارتخانے کی تلاشی کی جائے گی تاہم انہوں نے تلاشی کی تاریخ بتانے سے گریز کیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2017 کے پریس فریڈم انڈیکس میں دنیا کے 180 ممالک میں مصر کا آزادی اظہار رائے میں 169واں نمبر ہے جو ملک میں صحافتی برادری کو درپیش مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔