Courtesy: ڈان نیوز

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تیل، گیس اور بجلی کے بلوں کے حوالے سے دائر کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کی تعیناتی کی تحقیقات کی ہدایت کردیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تیل، گیس اور بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ڈالرکی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آج کل مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں ڈالر کہاں پرچلا گیا ہے، مہنگائی ہے کہ پکڑ میں نہیں ہے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

وکیل پی ایس او نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ قیمتوں کے تعین کیلئے پیپرا مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اگر پیپرا ایک مہینے کے بجائے 15 روزکا ٹینڈر دے تو قیمتوں میں تھوڑا فرق آسکتا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کے ساتھ مل کر یہ معاملہ طے کریں، اگر ایک پیسے کا بھی فرق ہو تو عوام کو ریلیف ملنا چاہیے۔چیف جسٹس نے سابقہ حکومت کی غیر قانونی تعیناتیوں اور تنخواہ سے متعلق استفسار کیا جس پر وکیل پی ایس او نے بتایا کہ سابقہ حکومت نے صرف ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی کی تھی، جس کی ماہانہ تنخواہ 37 لاکھ روپے تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ ریاست کا اتنا لاڈلا تھا کہ اسے اتنی تنخواہ دی گئی؟اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ایس او میں اقربا پروری پر تعیناتیاں سابقہ حکومت نے کیں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات سے متعلق انکوائری نیب کر رہا ہے۔وکیل پی ایس او نے بتایا کہ 2016 میں حکومت کو تعیناتی کیلئے تین نام بھیجے گئے تھے جس پر عمران الحق کو منتخب کیا گیا تھا، جن کی تنخواہ اور مراعات مارکیٹ ریٹ پر طے کی گئیں جبکہ 2012 میں ریٹائرڈ ہونے والے ایم ڈی کو 12 لاکھ روپے دیے جاتے تھے۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے معاملہ نیب کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو اس کیس کو دیکھنا چاہیے اور نیب اپنی رفتار تیز کرے 4 ہفتے کے اندر تحقیقات مکمل کرکے عدالت کو آگاہ کرے، اس کے علاوہ عدالت نے ایل این جی سے متعلق اٹارنی جنرل کی ان چیمبر بریفنگ کی درخواست بھی منظور کرلی۔