Courtesy: ڈان نیوز

وزیرِاعظم عمران خان نے پارٹی منشور کے مطابق 50 لاکھ گھروں کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ’وزیرِ اعظم ہاؤسنگ اتھارٹی‘ کے قیام کا اعلان کردیا۔نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے ’وزیرِ اعظم ہاؤسنگ اتھارٹی‘ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود اس اتھارٹی کی نگرانی کریں گے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

پاکستان میں گھروں کی تعمیر سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت آئندہ 5 سالوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرے گی۔وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ گھر کم آمدنی والے افراد کو دیئے جائیں گے اور ان کے انتخاب کے لیے نادرا سے مدد لی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جب ان گھروں کی تعمیر کا آغاز ہوگا تو اس سے منسلک تقریباً 40 صنعتیں فعال ہوجائیں گی جن سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گھر بنانے کے منصوبے میں نوجوانوں کو تعمیرات کی کمپنیاں بنانے میں حوصلہ افزائی ملے گی۔

وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب کے دوران سب سے پہلے وفاقی ملازمین کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری ہے، وزیرِاعظم عمران خانوزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 10 سے 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جس کے لیے دوست ممالک اور انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے بات چیت کی جائے گی۔نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس مستقبل میں اتنے پیسے نہیں ہوں گے کہ ہم اپنے قرضے واپس کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو 10 سے 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، اور اس وقت آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری ہے۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے آکر جو اقدامات کیے ہیں ان کے اثرات 6 ماہ بعد نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر ادارے تباہ ہوجائیں تو ملک تباہ ہو جاتا ہے۔
میں ملک کو بحران سے نکالوں گا، عمران خانان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر سے کم ہوکر 15 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تاہم اس کے لیے حکومت کی جانب سے رعایات دی گئی ہیں۔اپنی حکومتی کارکردگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ قلیل مدتی پریشانی ہے جس میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، اور میں ملک کو بحران سے نکالوں گا‘۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ قوموں کے اوپر اس سے بھی بڑے بڑے مسائل آئے ہیں، آج یہ جو اتنا بڑا مسئلہ بنایا ہوا ہے وہ 6 ماہ بعد لگے گا کہ کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں، یہ مسئلہ صرف 10 سے 12 ارب ڈالر کا ہے۔