Courtesy: ڈیلی پاکستان

گرمی کی شدت انسانی جسم کے ساتھ ساتھ دماغ اور اس کی کارکردگی پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ اب سائنسدانوں نے جدید تحقیق میں پہلی بار اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ انسانی دماغ کس درجہ حرارت پر بہترین کام کرتا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ہارورڈ ٹی ایچ چن سکول کے سائنسدانوں نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ انسانی دماغ 22ڈگری سینٹی گریڈ پر بہترین کام کرتا ہے۔ اس سے کم یا زیادہ درجہ حرارت ہونے پر دماغ کے کام کرنے کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور انسان کے لیے ذہنی کام کرنا ایک مشقت بن جاتا ہے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 44طلبہ پر تجربات کیے۔ انہیں دو گروپوں میں تقسیم کرکے مختلف درجہ حرارت میں رکھ کر 12روز تک ان سے مختلف دماغی کام لیے گئے اور ان کی ذہنی استعداد کار کا مشاہدہ کیا گیا۔ ان طلبہ نے 22ڈگری سینٹی گریڈ پر سب سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جب انہیں بغیر ایئرکنڈیشن کے 26ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے کمرے میں بٹھا کر وہی ٹیسٹ لیا گیا تو ان کے سوالوں کا جواب دینے کے وقت میں 13.4فیصد اضافہ ہو گیا، یعنی ان کے دماغ کی رفتار 13.4فیصد سست ہو گئی۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر جوز گوئیلرمو سینڈینو لورینٹ کا کہنا تھا کہ ”ان تجربات میں ہم نے طلبہ کے جسم میں پانی کی کمی کو بھی مدنظر رکھا۔ جب تجربات میں گرمی کے ساتھ اس عنصر کو بھی شامل کیا گیا تو ان کی کارکردگی مزید کم ہو گئی۔ ہماری اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ گرمی کی شدت صرف عمر رسیدہ افراد ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کے دماغ پر بھی اثرانداز ہوتی ہے اور ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سست کر دیتی ہے۔“