Courtesy: ایکسپریس

فیس بک نے خون کے عطیہ کنندہ کے عالمی دن کے اعزاز میں بلڈ ڈونیشنز کے نام سے فیس بک پر ایک نیا مرکز بنایا ہے اس مرکز میں پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برازیل کے لوگوں کو قریبی مقام پر خون کا عطیہ دینے کا موقع حاصل ہو سکے گا۔ اس ضمن میں فیس بک کی جانب سے ان ممالک میں پہلے سے ہی خون کی قلت اور خون کے عطیات کی اہمیت سے متعلق آگہی مہم چلائی جا رہی ہے، جو لوگ فیس بک پر بلڈ ڈونیشنزکا وزٹ کرتے ہیں وہ بلڈ ڈونر کے طور پر اپنے آپ کو فیس بک پر رجسٹر کروا سکتے ہیں اور جب کہیں قریب میں خون کی ضرورت ہو تو براہ راست اس کا نوٹیفکیشن موصول ہوتا ہے، اب تک ایک کروڑ سے زائد افراد خون کے عطیات دینے کیلیے اپنے آپ کو رجسٹر کرا چکے ہیں اور ہزاروں افراد کو فیس بک کے ذریعے خون کے عطیات حاصل ہو چکے ہیں.

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

فیس بک اس بات سے واقف ہے کہ جب خون کا عطیہ دینے کے خواہش مند افراد کو معلومات فراہم ہوں اور موقع ملے تو وہ ضرور آگے بڑھ کر مدد کرتے ہیں لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خون کے عطیات دینے کے خواہش مند افراد اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ کب اور کہاں خون کا عطیہ دینا ہے، فیس بک پر بلڈ ڈونیشنز سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شہر میں عطیہ دہندگان، بلڈ بینکس اور خون کے عطیات سے متعلق تقریبات میں اپیل پر لوگ خون کا عطیہ دینے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

ہم اس مرکز میں ان اداروں کیلیے آسانی کر دی ہے کہ وہ خون کے عطیات کی درخواستیں اور تقاریب کا اضافہ کریں، لوگ فیس بک کے ذریعے اپنی ڈیوائس پر ایکسپلور مینو میں سے بلڈ ڈونیشنز تک رسائی حاصل کر سکیں گے، خون کے عطیات میں قلت اور اس کی اہمیت سے متعلق آگہی بڑھانے کیلیے فیس بک جون کے مہینے میں ایک مہم کا آغاز کر رہا ہے جس میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ خون کا عطیہ دیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حقائق سامنے لائے جائیں گے، سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام کے نیشنل کوآرڈینیٹر پروفیسر حسن عباس ظہیر نے بتایا کہ موسم گرما کی تعطیلات اور ماہ رمضان کے دوران پاکستان میں خون دینے کے عطیات میں کمی آجاتی ہے اور گزشتہ چند سالوں سے خون کے عطیات میں کمی بڑھ گئی ہے .

مریضوں کو شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے، خاص طور پر تھیلیسیمیا کے مریض زیادہ متاثر ہوتے ہیں پاکستان میں بلڈ بینکوں کو اپنے باقاعدہ ڈونرز سے خون کے عطیات جمع کرنے کیلیے متعدد بار درخواست کرنی پڑتی ہے اور خون کے عطیات کی بحالی یقینی بنانے کیلیے نئے عطیہ کنندگان بنانے پڑتے ہیں تاکہ روانی کے ساتھ متاثرین کو خون کی روانی سے فراہمی برقرار رہے، حکومت کا سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام فیس بک کے ذریعے خون کے عطیات جمع کرنے میں معاونت کر رہا ہے اور خون کے عطیات کی درخواستوں پر عمل کرتا ہے۔