Courtesy: ڈان نیوز

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ججز کی سیکیورٹی بڑھانے سے متعلق پنجاب حکومت کی پیشکش مسترد کردی۔واضح رہے کہ 2 روز قبل لاہور میں سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔عدالت عظمیٰ سے جاری مراسلے میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا کہ ‘ججز کو معمول سے زیادہ سیکیورٹی درکار نہیں تاہم مجموعی طور پر سیکیورٹی کی حالت بہتر ہونی چاہیے تاکہ عام شخص کو فائدہ پہنچے‘۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

سپریم کورٹ کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر 2 مرتبہ فائرنگ کی گئی، پہلہ واقعہ صبح 4 بج کر 30 منٹ پر جبکہ دوسرا 9 بجے پیش آیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔پولیس حکام کے مطابقجسٹس اعجاز الاحسن کے نجی سیکیورٹی گارڈ دین محمد نے صبح 6 بجے 9 ایم ایم پستول کی چلی ہوئی گولی گھر کے اندرونی حصے سے اٹھائی جس کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا۔سیکیورٹی حکام کے مطابق گولی فرانزک تجزیئے کے لیے لیبارٹری بھیج دی گئی اور اس ضمن میں ملزمان کی نشاندہی کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد حاصل کی جارہی ہے بعد ازاں ایک اور چلی ہوئی گولی گھر کے گراج میں پائی گئی۔

واقعے کے فوراً بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کا دورہ کیا اور پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) عارف نواز خان کو تحقیقات کا حکم دیا، جس کی نگرانی چیفجسٹسثاقب نثار خود کررہے ہیں۔دوسری جانب ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں پولیس کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کے تحت سیکشن 324 (اقدام قتل)، 427 (املاک کو نقصان)، 506 بی (مجرمانہ دھمکی) مقدمہ درج کرلیا گیا۔اس ضمن میں تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس کی سربراہی ڈی آئی جی انویسٹی گیشن چوہدری سلطان احمد، ایس ایس پی انویسٹی گیشن غلام مبشر، کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ایس پی ندیم عباس اور ماڈل ٹاؤن کے ایس پی انویسٹی گیشن شاکر احمد شاہد پر مشتمل ہے۔

جائے وقوع سے متعلق ابتدائی تحقیقات کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کے دروازے پر لگنے والی گولی کچھ فاصلے سے فائر کی گئی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک گولی جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کے دروازے پر بالائی حصے میں لگی اور اس کا زاویہ پیرا بولک انداز میں تھا۔واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن پاناما پیپز کیس میں پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں وہ متنازع الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر 17 پٹیشن کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔اسی بینچ نے حکم صادر کیا تھا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل شخصسیاسی جماعت میں کوئی عہدہ حاصل نہیں کر سکے گا جس کے نتجے میں نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے بھی محروم ہو گئے تھے۔جسٹس اعجاز الاحسن احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ سمیت سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف کرپشن کیس کے نگران جج کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔