Courtesy: ڈان نیوز

سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اویس احمد نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت پس پشت چلی جائے۔ڈان نیوز کے پروگرام ’نیوز آئی‘ میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کی جانب سے نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن اویس احمد نے کہا کہ نواز شریف اور ان کا خاندان جانتا ہے کہ انہوں نے کتنی کرپشن کی ہے اور وہ بچ نہیں سکتے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

اویس احمد نے کہا کہ آپ عدلیہ یا ججز کو اسکینڈلائز نہیں کرسکتے جو نواز شریف اور ان کے حواری کر رہے ہیں، عدلیہ کو چاہیے کے معاشرے میں اپنے وقار کو قائم رکھے کیوں کہ ایسا نہ ہو کہ لوگوں کی نظر میں عدلیہ کی ساکھ خراب ہو جائے، اس لیے اس حوالے سے حدود مقرر کرنا بھی عدلیہ کا کام ہے۔اس موضوع پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ جب بھی ہم کسی ادارے، عدالت یا جج کے بارے میں بات کریں تو ہمیں ناپ تول کر بات کرنا چاہیے کیوں کہ تقریر کا مقصد انتشار پھیلانا ہو یا کسی ادارے کے بارے میں غلط بیانی کرنا ہو تو اس کی اجازت آئین بھی نہیں دیتا۔

اس دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید عباسی نے کہا کہ عدالتوں کا احترام ہم سب پر لازم ہے اور ہم اس بات سے بھی واقف ہیں کہ آئین میں اس کی اجازت نہیں لیکن اگر میرے خلاف کوئی فیصلہ آتا ہے تو میرا یہ حق ہے کہ میں لوگوں کو جا کر یہ بتاوں کہ میرے خلاف فیصلہ کیا گیا۔واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی عدلیہ مخالف اور توہین آمیز تقاریر کو نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کردی ہے۔

گذشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے پیمرا کو عدلیہ مختلف تقریر سے متعلق زیر التوا درخواستوں کا 15 روز میں فیصلہ سنانے کا بھی حکم دیا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز سمیت دیگر کوئی بھی شخص عدلیہ مخالف تقریر کرے گا تو پیمرا اس کی نشریات کو روکے گا۔عدالت عالیہ کے عبوری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پیمرا نگرانی کا عمل سخت کرے اور کوئی بھی توہین آمیز تقریر یا پروگرام نشر نہیں ہونا چاہیے۔یاد رہے کہ 29 جنوری 2018 کو لاہور ہائی کورٹ میں بھی سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز، وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناء اللہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کے خلاف توہینِ عدالت کی متفرق درخواست دائر کی گئیں تھیں۔