Courtesy: ڈان نیوز

قومی چیف سلیکٹر انضمام الحق نے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے فواد عالم کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 3 سال کے دوران فواد عالم سے بہتر کھلاڑی سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے نوجوانوں کو دورے کے لیے منتخب کیا ہے۔قومی سلیکشن کمیٹی نے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے 16رکنی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کیا ہے اور ناتجربہ کار ٹیم ہونے کے باوجود ڈومیسٹککرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگانے والے فواد عالم کو اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

سلیکشن کمیٹی نے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے 10 بلے بازوں پر مشتمل اسکواڈ کا اعلان کیا لیکن اس میں فواد عالم جگہ بنانے میں ناکام رہے اور ان کی جگہ انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق، نوجوان سعد علی، عثمان صلاح الدین، فخر زمان اور فہیم اشرف جیسے نوجوانوں کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قائد اعظم ٹرافی کے گزشتہ 4 سیزنز میں فواد عالم نے بالترتیب 71.90، 56، 55.54 اور 41.71 رہا۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ فواد عالم ایک بہترین کرکٹر ہیں لیکن گزشتہ 3 سال کے دوران دیگر کھلاڑی فہرست میں ان سے آگے رہے۔ ہم نے انہیںنیٹ میں طلب کیا لیکن سعد علی کو ان سے بہتر پایا۔انہوں نے کہا کہ کپتان اور کوچنگ اسٹاف سے مشاورت کے بعد سعد علی کو متفقہ طور پر منتخب کیا گیا، ہم فواد کی بیٹنگ اوسط کو نظر انداز نہیں کرسکتے لیکن گزشتہ 3 سال کے دوران دیگر کھلاڑیوں نے ان سے زیادہ رنز اسکور کیے۔

چیف سلیکٹر نے مزید کہا کہ فواد عالم کو منتخب نہ کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ انہیں اب منتخب نہیں کیا جائے گا، محض اعدادوشمار اور اسکور کارڈ دیکھ کر کھلاڑیوں کو منتخب کرنا آسان ہے لیکن دیگر اہم چیزوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔’مجھے نہیں پتہ کہ فواد کو ماضی میں کیوں منتخب نہیں کیا گیا لیکن اگر آپ چیف سلیکٹر کی حیثیت سے میر ے دور کی بات کریں تو میں نے ان سے بہترکھلاڑی دیکھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انگلش کنڈیشنز کو مدنظر رکھ کر ٹیم کا انتخاب کیا گیا، قائد اعظم ٹرافی کے گزشتہ سیزن میں کنڈیشنز فاسٹ باؤلرز کے لیے سازگار تھیں اور سعد علی نے سب سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے انہیں منتخب کیا گیا۔اپنے بھتیجے امام الحق کے انتخاب کے حوالے سے سوال پر ماضی کے مایہ ناز بلے باز نے کہا کہ امام کو منتخب کرنے کا فیصلہ مشکل تھا لیکن یہ فیصلہ میں نے نہیں بلکہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور دیگر سلیکٹرز نے کیا۔ میں بحث کا حصہ تھا لیکن میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔قومی ٹیم رواں ماہ دورہ آئرلینڈ کے لیے روانہ ہو گی جہاں وہ ایک ٹیسٹ میچ کھیلے گی جو آئرلینڈ کا ٹیسٹ کرکٹ میں پہلا میچ ہو گا جبکہ اس کے بعد قومی ٹیم دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے انگلینڈ جائے گی۔