Courtesy: اردو پوانٹ

لاہور۔14 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اپریل2018ء)دنیا بھر میںرعشہ کی بیماری میں مبتلا لوگوںکی تعداد 60لاکھ سے زائد ہے جن میں سے اکثریت کو اپنے مرض کے متعلق کوئی آگہی نہیں۔ ان خیالات کااظہار دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹرز نے رعشہ کے مرض کے عالمی ہفتہ کی مناسبت سے جاری کردہ بیان میں کیا۔اس آگاہی مہم کو GSK پاکستان کا تعاون حاصل تھا۔ سی ایم ایچ کے شعبہ نیورولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر قاسم بشیر اور ڈاکٹر ز ہسپتال کے نیورولوجسٹ ڈاکٹر عامر اکرام نے کہا کہ پاکستان میں رعشہ کے مرض میں مبتلا افراد زیادہ تر 60سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں لیکن اس بیماری میں 40سے 50سال کی عمر کے افراد بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر رعشہ کے مریضوں کی تشخیص صحیح طور پر نہیں ہو پاتی اور اس بیماری کی علامات کو بڑھاپے کا ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک بیماری ہے جو دماغ میں کیمیکل کی کمی کے باعث ہوتی ہے۔ یہ بڑھاپے کا ردعمل نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک زندگی بھر رہنے والا مرض ہے اور تمام عمر اس کا علاج جاری رہتا ہے۔ علاج کے نتیجے میں لوگ عام زندگی گزار سکتے ہیں۔اس مرض کی تشخیص کے لیے کسی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں بلکہ حرکات و سکنات سے باآسا نی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔اس بیماری کے نتیجے میں پٹھے اکڑ جاتے ہیں اور حرکات و سکنات سست روی کا شکار ہوجاتی ہیں۔اس کے علاج کے لیے دوائوں کے ساتھ ساتھ فزیو تھراپی اور تیماری داری بہت اہم ہوتی ہے۔ اس بیماری کے باعث دیگر کئی مسائل جنم لیتے ہیں جن میں نیند کی کمی ، غصہ ، پریشانی ، دماغی امراض اور ڈپریشن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارکنسنز کے متعدد مریضوں میں یہ مسائل جنم لیتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کے اس بیماری سے لڑنے میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرور ت ہے ۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن