Courtesy: ایکسپریس

اس سے قبل کئی مرتبہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اگر چھوٹے بچے کھانے کھاتے ہوئے ٹی وی دیکھنے کی عادت اپنالیں تو وہ فربہی یعنی موٹاپے کی جانب مائل ہوسکتے ہیں۔ اسی بنا پر ماہرین بچوں کےلیے ٹیلیوژن دیکھنے کا وقت محدود کرنے پر سختی سے زور دے رہے ہیں۔اب ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ادوار میں اسی طرح کے مطالعوں کے بعد 75 فیصد تک اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ جو بچے کھاتے دوران ٹی وی میں گم رہتے ہیں وہ زائد وزن اور موٹاپے کے شکار ہوسکتے ہیں۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

اس مطالعے میں شامل بچوں کی عمر، جنس، معاشی رحجانات اور دیگر اہم عوامل کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کا اہم کام شیراز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسس نے انجام دیا ہے اور ساتھ ہی اس میں مغربی ماہرین نے بھی تحقیق کی ہے۔ مطالعے سے ایک بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اگر ٹی وی دیکھنے کے عادی بچوں کی عمریں سات سے آٹھ برس ہوں تو ان میں موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

کینیڈا میں بھی ایسا ہی ایک مطالعہ کیا گیا ہے جس میں والدین نے بچوں میں کھانے کی عادات اور موٹاپے کے درمیان تعلق کے سوالنامے بھر کر جمع کرائے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں جن میں ٹی وی پر آنے والے جنک فوڈز کے اشتہارات بھی شامل ہیں اور والدین بچوں کو پھل اور سبزیاں کھلانے سے بھی کترارہے ہیں۔ تاہم 2013 میں کئے گئے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر بچے صحت مند غذائیں کھائیں تب بھی ٹی وی دیکھنا ان کے لیے مضرِ صحت ثابت ہوسکتا ہے۔

سروے میں یہ رپورٹ بھی سامنے آئی ہے کہ رات کو کھانا کھاتے وقت بچے بہت دیر تک ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں اور اسی وقت ان کی صحت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ ضرورت سے زائد کیلیوریز حاصل کرتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹی وی کی زیادتی بچوں کی نیند پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور یوں وہ موٹاپے کی جانب مائل ہوسکتے ہیں۔اس مطالعے میں 18 سال سے کم عمر کے ایسے 80 ہزار بچوں کا جائزہ لیا گیا جو مختلف یورپی ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ تحقیق میں ہونے والے 20 تحقیقی مطالعوں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ ماہرین نے والدین سے کہا ہے کہ وہ کھانے کھاتے ہوئے بچوں کو ٹی وی دیکھنے کی حوصلہ شکنی کریں اور ان کےلیے ٹی وی کے وقت کو محدود کریں۔