Courtesy: جاوید چودھری ڈاٹ کام

قطر میں معیشت اور تجارت کی وزارت نے اپنی میعادی رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ جنوری 2018 میں قطر میں مجموعی طور پر 418 کمپنیوں نے اپنی تجارتی سرگرمیوں کو بند کر دیا۔ ان میں 14فیصد نئی کمپنیاں شامل ہیں جن کا حال ہی میں اندراج ہوا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق بندش سے سب سے زیادہ متاثرہ کمپنیوں کی فہرست میں 36فیصد کے ساتھ پہلا نمبر کنٹریکٹنگ کمپنیز کا ہے۔اس کے بعد برقی آلات ، عمومی سامان ، راشن اور پھر تعمیراتی لوازمات کے تاجر ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنوری کے مہینے میں جن کمپنیوں کی شاخوں کا افتتاح ہوا تھا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

ان میں 41فیصد اسی ماہ کے دوران بند ہو گئیں۔ ان شاخوں کی مجموعی تعداد 605 رہی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جنوری میں جن نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا ان میں غیرملکی کمپنیوں کا تناسب صرف 1فیصد تھا۔قطر کی معیشت اس وقت مشکلات سے گزر رہی ہے۔اس کی بنیادی وجہ گزشتہ برس جون سے خلیجی ممالک اور مصر کی جانب سے جاری دوحہ کا بائیکاٹ ہے۔ یہ بائیکاٹ قطر کی جانب سے دہشت گردی کی سپورٹ اور پڑوسی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کے الزامات کے پس منظر میں سامنے آیا۔بائیکاٹ کے بعد قطر کے بینکوں اور منڈیوں کو ڈپازٹس اور سیالیت کی قلت کا سامنا کرنا پڑا اور سرمایہ کاروں کی اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ایسی صورت حال میں قطر کے سرمایہ کاری کے ونگ نے بیرون ملک اپنی کئی اہم سرمایہ کاریوں سے باہر آنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی اپنے بعض اثاثوں کی سیالیت عمل میں لا کر انہیں مقامی منڈی میں جھونک دیا تا کہ کسی بحرانی کیفیت سے بچا جا سکے۔