Courtesy: جاوید چودھری ڈاٹ کام

پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے کہا ہے کہ اشیاء و خدمات کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے بجلی کی قیمتوںمیں کمی کی جائے۔قائمقام چیئرمین پیاف تنویر احمد صوفی اور وائس چیئرمین پیاف خواجہ شاہزیب اکرم نے ان خبروں پر کہ حکومتی سطح پر ٹیکسٹائل سیکٹر میں بجلی کی قیمتوں میں کمی پر غور و خوض ہورہا ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر ہی نہیں بلکہ تمام انڈسٹریز پر یکساں طور پر بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے تاکہ اشیاء و خدمات کی پیداواری لاگت کم ہوں اور بیرون ملک برآمدات میں اضافہ ہوسکے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

۔بجلی کے انڈسٹریل ٹیرف میں کمی کرنے سے مقامی طور پر تیار ہونے والی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں دیگر ممالک کی مصنوعات سے مسابقت کرسکیں گی۔ مسابقتی ممالک سری لنکا بنگلہ دیش انڈیا ویتنام و دیگر ممالک میں صنعتوں کی پیداوار لاگت پاکستان کے مقابلے میں کہیں کم ہے اور اس کے باعث پاکستان کی تیار کردہ مہنگی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں دوسرے ممالک کی مصنوعات سے مقابلہ نہیں کرپارہی ہیںجس کے ملکی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کافی عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کہ پاکستان مین کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہیں۔ لہذا تمام صنعتوں کے لئے پاور ٹیرف کو کم کیا جائے۔

جس سے پیداواری لاگت میں کمی ہو گی جو برآمدات میں اضافے میں مددگار ثابت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتوں کی شرح نمو کم ہو کر رہ گئی ہے جس سے صنعتکاروتاجر برادری پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ بڑھتے ہوئے بے جا ٹیکس اور گیس و بجلی کی قیمتوں میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت اضافہ سے اشیاء کی پیداواری لاگت دن بدن بڑھ رہی ہیں جس سے بالواسطہ طور پر عوام متاثر ہورہی ہے۔ پیداوار کم ہونے سے برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں اور برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ خطے میں دیگر ممالک کی طرح بزنس فرینڈلی پالیسیز ترتیب دی جائیں، بجلی کی قیمتیں زیادہ ہونے سے اشیاء کی پیداواری لاگت بڑھنے سے برآمدات تنزلی کا شکار اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ۔اس لیے فوری طور پربجلی کے انڈسٹریل ٹیرف میں کمی کی ازحد ضرورت ہے۔