Courtesy: ڈیلی پاکستان

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کا بیشتر حصہ بے آب و گیاہ صحرا پر مشتمل ہے لیکن اگر کوئی آپ سے کہے کہ کبھی اس صحرائی علاقے کی جگہ سرسبز و شاداب جنگلات ہوتے تھے جن میں طرح طرح کے چرند پرند پائے جاتے تھے، تو آپ یقین کریں گے؟ بات تو حیرانی کی ہے لیکن ماہرین آثار قدیمہ بالکل یہی کہہ رہے ہیں۔مملکت کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی حالیہ دریافتوں کی بناءپر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی معلومات سعودی عرب کی تاریخ کو ہمیشہ کے لئے بدل دیں گی

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

سعودی آثارقدیمہ کے متعلق منعقد ہونے والے ایک کنونشن میں متعدد ایسی دریافتوں کا انکشاف کیا گیا ہے جو بہت حیران کن بھی ہیں اورمملکتمیںثقافتی سیاحت کو فروغ دینے کا سبب بھی بنیں گی۔ سعودی کمیشن برائے سیاحت و قومی ورثہ کا کہنا ہے کہ ”یہ دریافتیں ظاہر کرتی ہیں کہ سعودی جزیرہنما کبھی سرسبز وشاداب جگہ تھی۔جس طرح آج یہ صحرا نظر آتا ہے قدیم دور میں یہ جگہ ایسی نہیں تھی۔ یہاں ہرے بھرے جنگلات تھے، ماحول مرطوب تھا اور جانوروں کی کثرت تھی۔ماہر آثار قدیمہ علی الغبان کا کہنا تھا کہ یہ دریافتیں متعدد آثار قدیمہ کے مطالعے کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔ ان آثارقدیمہ میں ساڑھے تین لاکھ سال پرانے ہاتھی دانت بھی شامل ہیں جن کی دریافت مملکت کے شمال میں تائما صوبے کی ایک خشک جھیل کے پیندے میں ہوئی ہے۔