Courtesy: ایکسپریس

معروف ماہرنفسیات ڈاکٹر صابر حسین کے مطابق زیادتی کا شکار ہونے والے بچے کئی طرح کے نفسیاتی اور جسمانی مسائل سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ یہ کیفیت ’’پوسٹ ٹرامیٹک سنڈروم‘‘ کہلاتی ہے۔ اس کیفیت میں بچے ڈپریشن اور ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے اندر خوف اور عدم تحفظ کا احساس اور بداعتمادی پیدا ہوجاتی ہے۔ انھیں ڈراؤنے خواب نظر آنے لگتے ہیں، اور گھر والوں کے ساتھ ان کا رویہ تبدیل ہونے لگتا ہے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

چھوٹے بچے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو جسمانی تشدد کے طور پر لیتے ہیں۔ اگر یہ تشدد قریبی رشتے دار یا گھر کے ملازم وغیرہ کی جانب سے ہو تو بچے اپنے والدین اور بڑے بہن بھائیوں پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور ان سے متنفر ہوجاتے ہیں۔ چوں کہ ان کے ننھے ذہنوں میں والدین اور بہن بھائیوں کا تصور ایک محافظ جیسا ہوتا ہے، چناں چہ قریبی رشتے دار کی جانب سے زیادتی کی صورت میں یہ تصور بری طرح مجروح ہوتا ہے۔

اس کے برعکس کسی باہر کے فرد کی درندگی کا شکار ہونے کے بعد بچہ گھر والوں سے زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ ہر دو صورتوں میں اس کی شخصیت تباہ ہوجاتی ہے۔ زیادتی کے سانحے سے گزرنے والے چھوٹے بچوں کی مینٹل میچوریٹی بری طرح متاثر ہوتی ہے، کیوں کہ ان کی ذہنی سطح اتنی بلند نہیں ہوتی کہ وہ اس سانحے سے جُڑی تمام چیزوں کو سمجھ سکیں، اور جب تک وہ سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں تو یہ سانحہ اور اس کے اثرات ان کے لاشعور میں پختہ ہوچکے ہوتے ہیں۔

ایسے بچے اکثر اس بارے میں کسی کو بتانے سے کتراتے ہیں، کیوں کہ انھیں اپنے دوستوں اور اہل خانہ کی طرف سے مسترد کیے جانے کا خوف ہوتا ہے۔ وہ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے گھر والے انھیں ہی مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ چناں چہ وہ بہ تدریج تنہائی اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ قدرے بڑی عمر کے بچے جو اس فعل کو سمجھ سکتے ہیں، دیگر نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہونے کے علاوہ وہ بعد میں خود بھی ہم جنس پرست بن سکتے ہیں۔

لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی انھیں جسمانی طور پر سخت نقصان سے دوچار کرسکتی ہے۔ ان کا تولیدی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ نتیجتاً وہ مستقبل میں ماں بننے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوسکتی ہیں۔ زیادتی کا شکار ہونے والی بچیاں مایوسی، تنہائی، بے خوابی کے ساتھ ساتھ خود اذیتی کی عادت بھی اپنالیتی ہیں۔ وہ خودکشی کے بارے میں سوچتی اور بعض اوقات اس کا ارتکاب بھی کر ڈالتی ہیں۔ وہ متشدد بھی ہوجاتی ہیں۔اگر کسی بچے کے ساتھ زیادتی کے واقعے کا چرچا ہوجاتا ہے تو اسے گلی محلے کے علاوہ اسکول میں بھی ہم جماعتوں کے طنز و تضحیک کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

یہ صورت حال اسے مزید اذیت پہنچاتی ہے، نتیجتاً تعلیم اور اسکول کی سرگرمیوں میں اس کی دل چسپی ختم ہوجاتی ہے اور اس کے نفسیاتی بگاڑ میں بھی شدت آجاتی ہے۔ڈاکٹر صابر حسین کا کہنا ہے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کو اپنے چاہنے والوں خاص کر گھر والوں کی توجہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اس صدمے سے باہر آسکیں۔ والدین کی عدم توجہ اور اس حادثے کو نظرانداز کرنے والا رویہ بچوں کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ہمارے منفی معاشرتی رویوں کی وجہ سے والدین اس حادثے کے بعد بچوں کو ماہر نفسیات کے پاس لانے سے کتراتے ہیں۔ نفسیاتی علاج کے ذریعے بڑی حد تک ان بچوں کے ذہنوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے انھیں نجات دلائی جاسکتی ہے۔