Courtesy: اردو پوانٹ

مقامی ذرائع کے مطابق سعودی ڈائریکٹریٹ جنرل جوازات کے ترجمان کرنل طلال شلھوب نے کہا ہے کہ تارکین اقامہ اپنے ہمراہ رکھیں۔ساتھ نہ ہونے پر 3ہزار ریال تک جرمانہ، قید یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں ۔اردو نیوز کی جانب سے استفسار پر شلھوب نے مزید کہا کہ دوران تفتیش ایکسپائر اقامے پر تارک وطن کو 500 ریال جرمانہ ہو گا ۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

وزارت داخلہ کے زیر انتظام اداروں کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مہم مملکت میں جاری ہے جس کا بنیادی مقصد مملکت کو غیر قانونی تارکین سے صاف کرنا ہے ۔ تفتیشی مہم کے دوران ایسے غیر ملکی جن کے اقامہ ایکسپائر ہوں گے ان پر پہلی بار 500 ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔ دوسری بارگرفتاری پر ایک ہزار ریال جبکہ تیسری بار ایکسپائر اقامہ رکھنے پر ایک ہزار جرمانے کے ساتھ مملکت سے بے دخل بھی کیاجائے گا ۔

قبل ازیں ریاض میں کنگ عبداللہ میڈیکل کمپلیکس میں منعقدہ ” غیر قانونی تارکین سے پاک وطن ” کے زیر عنوان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کرنل شلھوب نے وضاحت کی کہ جوازات کا کردار غیر قانونی تارکین کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ یہ ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی ہے ۔ جوازات کے ذمہ گرفتار ہونے والے غیر قانونی تارکین کے سفری مراحل مکمل کرنا ہیں ۔

گرفتار ہونے والے غیر قانونی تارکین کے مراحل کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کرنل شلھوب نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار غیر قانونی تارکین کو گرفتار کر کے انہیں متعلقہ سینٹر میں پہنچا دیتے ہیں جہاں انکے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ تارک وطن مملکت میں کسی جرم میں متعلقہ اداروں کو مطلوب تو نہیں ۔

ابتدائی معلومات حاصل کرنے کے بعد گرفتارشخص کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیاجاتا ہے جہاں قانون کے مطابق سزا نافذ کی جاتی ہے۔سزا کے نفاذ سے قبل اس امر کی بھی یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ گرفتار کیاجانے والے غیر قانونی شخص کو کس کس نے رہائشی اور دیگر سہولیات فراہم کی ۔ شلھوب نے مزید کہا کہ مملکت کے قانون کے مطابق غیر قانونی تارک وطن کو رہائش اور روزگار کی سہولت فراہم کرنا یا اسے ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کرنا بھی قانون شکنی کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسا کرنے والا اگرچہ مقامی ہو یا قانونی طور پر مقیم غیر ملکی وہ بھی برابر کا مجرم تصور ہو گا ۔