Courtesy: اردو پوانٹ

ہوٹل انتظامیہ نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی، سوالنامے نے آن لائن ہنگامہ برپا کر دیاشنگھائی کے حکام سب سے بڑے ہوٹل میریٹ کی طرف سے صارفین کے سوالنامے پر جس میں تبت و ہانگ کانگ جیسے چین کے ملکیت علاقوں کو علیحدہ ملک دکھایا گیا ہے آن لائن اٹھنے والے شوروغوغا کے بعد ہوٹل کیخلاف تحقیقات کررہے ہیں.

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

سٹی حکام نے بدھ کو دیر گئے جاری کئے گئے ایک نوٹس میں کہا کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کررہے ہیں کہ میریٹ انٹرنیشنل کے قدیم چینی زبان کے سوالنامے میں اس جغرافیائی ’’ لغزش‘‘ سے قومی سائبر سکیورٹی اور اشتہاری قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے، میریٹ نے اس پر معذرت کی ہے اور آن لائن سوالنامے میں ترمیم کی ہے اس سوال نامے میں میریٹ ہوٹل کے صارفین کے ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ انعام دینے کے مقابلے میں اپنی رہائش کیلئے ملک کا انتخاب کریں ،ان میں تبت ، ہانگ کانگ ، مکائو اور تائیوان کو ممکنہ آپشن دیا گیا ہے.

چین ان چاروں علاقوں پر غیرمتنازعہ خود مختاری کا دعوے دار ہے اور آزادی کی کسی تجویزپر تلملا اٹھتا ہے، میریٹ ہوٹل کے ویبو پر کمیونسٹ یوتھ لیگ کے سرکاری اکائونٹ پر چسپاں کئے جانے کے بعد میریٹ کی غلطی پر ناراضگی کا طوفان اٹھ کھڑا ہے، ویبو چین کا مقبول ٹوئٹر طرح کا پلیٹ فارم ہے ، ہزاروں مشتعل تبصروں اور ریپوس میں مذمت کی گئی ہے ، کئی نے مطالبہ کیا کہ میریٹ کا بائیکاٹ کیا جائے ، ایک ویبو استعمال کنندہ نے لکھا ’’میریٹ کا بائیکاٹ کروں !چین سے نکل جائو !۔

ایک اور نے کہا کہ اگرچہ تائیوان ، مکائو اور ہانگ کانگ کو بعض اوقات الگ لکھا جاتا ہے تا ہم ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ تبت کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے ، یہ بہت زیادتی ہے۔شنگھائی کے حکام نے کہا کہ انہوں نے رواں ہفتے کے اوائل میں میریٹ انتظامیہ سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ برہمی کا باعث بننے والے مواد کی تصحیح کی جائے اور کمپنی اس معاملے کی وجہ سے ’’ ناگوار تاثر ‘‘کی تصحیح کی ہر ممکن کوشش کرے ۔

میریٹ نے کہا کہ اسے انتہائی افسوس ہے اور چین کی خود مختاری اور علاقائی یکجہتی کا احترام کرنے بارے اپنے معمول کے موقف کے اعادے کی خواہش کا اظہار کیا ۔میریٹ نے کہا کہ اس غلطی کو درست کردیاہے اور حکومتی تحقیقات کے ساتھ عملی تعاون کرے گا ۔شنگھائی کے حکام نے نومبر میں کہا کہ انہوں نے ایک مقامی اشتہاری ادارے کو ایک چینی نقشے پر جو اس کے تیار کردہ ایک اشتہار میں شائع ہوا ہے ، ایک ملین یوآن (150000ڈالر ) پر جرمانہ کیا ہے اور حکام نے کہا کہ یہ نقشہ غلط ہے اور اس سے ملکی وقار کو نقصان پہنچا ہے۔