Courtesy: جاوید چودھری ڈاٹ کام

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ زیادتی پر زبانی بیان بازی سے کچھ نہیں ہو گا، ضیاء الحق دور کے پپو کیس کی طرح ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے اور آرمی کی طرز پر خصوصی عدالتیں قائم کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ پپو کیس کے مجرم کو سرعام پھانسی پر لٹکایا گیا تھا اور جنرل ضیاء الحق کا حکم تھا کہ سورج غروب ہونے تک اسکی لاش کو وہیں لٹکا رہنے دیا جائے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں، یہی وجہ ہے کہ اس کے کئی سال بعد تک ایسا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی وہ سب کو یاد ہے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

اس سانحہ کے بعد چودھری پرویزالٰہی سب سے پہلے منہاج القرآن پہنچے تھے انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ کس طرح وہاں کیسی سفاکی سے حاملہ خاتون اور طالبات سمیت بیگناہوں کا خون بہایا گیا، پولیس والوں نے جوتوں سمیت اندر گھر کر قرآن پاک کے سیپاروں کی بے حرمتی کی اور منع کرنے پر خواتین پر بھی گولیاں چلوائیں، یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد بھی میں نے ایسے سنگین جرائم کے کیسز کی سماعت کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ایسے سفاک، بے رحم اور ظالم مجرم سرعام ٹکٹکی پر لگائے جائیں اگر اس وقت حکمرانوں نے میری بات پہ کان دھرے ہوتے تو کتنے ہی بچے بچیاں اور بیگناہ لوگ سفاک مجرموں کی درندگی کا شکار ہونے سے بچ جاتے۔