Courtesy: جاوید چودھری ڈاٹ کام

آنے والے دنوں میں دہشتگردی کے واقعات کا خطرہ ہے تحریک طالبان کے دہشتگرد کی سندھ میں تیاریاں ہیں دہشتگردی کی ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز ڈی آئی جی لاڑکانہ عبداللہ شیخ نے ایس ایس پی لاڑکانہ تنویر حسین تونیو کے ہمراہ لاڑکانہ پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ شکارپور دہشتگردی کے دوران ایک خود کش بمبار عثمان کو پکڑا جسے پھانسی کی سزا دی گئی ہے گرفتاردہشتگرد سے کافی جان کاری حاصل کی ہے لاڑکانہ ڈویژن کے پانچ اضلاع میں کچے کے علاقوں میں آپریشن بہت جلد شروع کیا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

جائے گا کراچی میں آئی جی سندھ کی صدارت میں 16جنوری کو اہم میٹنگ رکھی گئی ہے میٹنگ میں طئے کریں گے کہ ہمیں کور کمانڈر سے کیا مدد درکار ہے ملک دشمن عناصر پاکستان کی سالمیت پر حملے کے لئے دہشتگردی کا سہارہ لے رہے ہیں ملک دشمن قووتیں بھاری رقوم خرچ کر کہ جدید ٹیکنالوجی سے پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں سی پیک سے خائف ممالک نے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے لئے بلوچستان کو مرکز بنایا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے لئے تحریک طالبان سجنا گروپ نے براہم داغ بگٹی سے گروپ بنایا ہے بلوچستان لبرل آرمی کیساتھ نیٹورک بناکہ پاکستان میں دہشتگردی کا نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے۔

افغانستان کے راستے خودکش حملہ آوروں کو ملک کے کونے کونے میں پہنچانے کی ذمہ داری بی ایل او کو سونپی گئی ہے تحریک طالبان پاکستان کا جئے سندھ متحدہ محاذ شفیع برفت سے کلوز الائنس بنا ہوا ہے شفیع برفت کے خلاف کارروائیوں میں دہشتگردانہ مواد برآمد کیا ہے اور ان کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے ڈی آئی جی لاڑکانہ عبداللہ شیخ نے مزید کہا کہ بلوچستان سے ملنے والی سرحدوں پر سخت سیکیورٹی قائم کی گئی ہے ہماری کوشش ہے کہ کچے میں آپریشن آرمی ،رینجرزاور ایف سی کے ساتھ مل کر کریں انہوں نے کہا کہ لڑکیاں اب فون اور نیٹ پر لڑکوں سے کچے کے علاقے کے قریب ملاقات کا ٹائم سیٹ کرکے کہ اغوا کروا دیتی ہیں دو سے تیں ایسے گینگوں کا صفایا کر دیا گیا ہے مگر ہمارے پاس وہ کشتیاں نہیں ہیں جن کی مدد ہمکچے کے ٹھکانوں پر پہنچ سکیں اس موقع پر اے ایس پی عمران کھوکھر بھی موجود تھے۔