Courtesy: ایکسپریس

پاکستان نے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے القدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت کی تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دے کر اپنے سفارتخانے کی القدس منتقلی کے اقدام سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔ بیان کے مطابق امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں بالخصوص اس کی 1980ء کی قرارداد نمبر478 کی کھلی خلاف ورزی ہے جب کہ اس اقدام سے اس معاملے پرگزشتہ کئی عشروں سے قائم عالمی مفاہمت، علاقائی امن اور سلامتی اورمشرق وسطی میں دیرپا امن کے امکانات کونقصان پہنچے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے منصوبے کی مذمت کرتا ہے اوراس مسئلے پر اسلامی تعاون تنظیم کے حال ہی میں منظور کئے گئے حتمی اعلامیے کی مکمل طورپر توثیق کرتا ہے۔