Courtesy: ایکسپریس

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ اور پنجاب کے لیے اداروں کا رویہ الگ الگ ہے تاہم اب یہ دہرا معیار نہیں چلے گا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئےخورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نئی قیادت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، بلاول بھٹو اپنے نانا کی طرح سیاست کریں گے۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے بڑے جلسے کرنے کی دعویدار ایک جماعت کا غرور توڑ دیا، پیپلز پارٹی کے جیالوں کے لیے پریڈ گراؤنڈ چھوٹا پڑ گیا، ہمارے آدھے لوگ گراؤنڈ کے اندر اور آدھے باہر تھے، سیالکوٹ، جہلم، لالہ موسی، کشمیر اور اٹک کے جلوس ٹریفک جام کی وجہ سے نہیں پہنچ سکے جب کہ 40 سے 50 ہزار جیالے نیشنل ہائی وے پر تھے جو جلسہ گاہ نہیں پہنچ سکے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف سنگین مقدمات کے باوجود نا تو کوئی گرفتاری ہوئی اور نا ہی کوئی نام ای سی ایل میں ہے، دوسری طرف شرجیل میمن خود پیش ہوئے لیکن انصاف نہیں مل رہا، سندھ اور پنجاب کے لیے اداروں کا رویہ الگ الگ ہے تاہم اب یہ دہرا معیار نہیں چلے گا۔