Courtesy: ڈان نیوز

لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد الحریری نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب میں آزاد ہیں اور جلد اپنے وطن واپس جائیں گے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ریاض میں سعودی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سعد الحریری نے گرفتاری یا نظر بندی کی تردید کرتے ہوئے جلدی وطن واپسی کا اعلان کیا۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے” ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں آزاد ہوں اور اگر چاہوں تو کل بھی سفر کرسکتا ہے‘۔سابق لبنانی وزیراعظم کا جلد وطن واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’آئندہ دو تین روز میں اپنی سرزمین بیروت میں موجود ہوں گا‘۔یاد رہے کہ 47 سالہ سعد الحریری نے چار نومبر کو ریاض سے ہی بذریعہ ٹیلی ویژن اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے وطن واپس نہ جانے کا عندیہ دیا تھا۔

دوسری جانب لبنانی صدر نے ابھی تک سابق وزیر اعظم کا استعفیٰ قبول نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وزیراعظم نے اپنی نقل و حرکت کو محدود کررکھا ہے‘۔سعد الحریری کے اچانک مستعفی ہونے کا اعلان سامنے آنے کے بعد سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی مزید بڑھ گئی کیونکہ لبنانی وزیراعظم نے مستعفی ہونے کی وجہ ایران اور حزب اللہ کے خطے میں بڑھتے اثرورسوخ کو قرار دیا تھا۔

اتوار کے روز دیے جانے والے انٹرویو میں لبنانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم لبنان کی ایسی صورتحال میں نہیں چل سکتے کیونکہ ایران نے تمام عرب ممالک میں دخل اندازیشروع کردی، جو سیاسی صورت میں کی جارہی ہے‘۔سعودی سفارت کار کی جانب سے غیر ملکی خبررساں ادارے کو پیش کیے جانے والے دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں کشیدگی بہت بڑھ چکی ہے اس لیے آئندہ اتوار کو عرب لیگ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر بات کی جائے گی۔

سعودی عرب کی شہریت کے حامل سعد الحریری کا کہنا تھا کہ ’میں نے استعفیٰ خود لکھا اور اسے لبنان میں ہی رہتے ہوئے جمع کروانا چاہتا تھا مگر میرا یہ فیصلہ بہت خطرناک ہوسکتا تھا‘۔اُن کا کہنا تھا کہ مستعفی ہونے کا مقصد یہی تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی ختم ہوجائے مگر یہ ممکن نہ ہوسکا اور حزب اللہ نے اپنے سیاسی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

یاد رہے کہ لبنان میں حکومت کے خلاف حوثی قبائل سرگرم ہیں جبکہ حال ہی میں لبنان کے سابق وزیراعظم نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ’ایران اور حزب اللہ نے ایک مرتبہ پھر ہاتھ ملا لیے اور اب وہ مجھے میرے والد کی طرح قتل کردیں گے‘۔لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے 4 نومبر کو ’خطرات‘ لاحق ہونے اور ملک پر ایران کی ’گرفت‘ مضبوط ہونے کے باعث عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی کو ٹارگٹ کرنے کے لیے بنائے گئے پوشیدہ منصوبے کو خود محسوس کر لیا ہے۔‘مسلسل 2 مرتبہ لبنان کے وزیر اعظم کا عہدہسنبھالنے والے سعد الحریری کے والد سابق وزیراعظم رفیق حریری کو 2005 میں قتل کیا گیا اور ان کے قتل کے حوالے سے کہا جارہا تھا کہ ’ایران اور اس کے طاقتور لبنانی اتحادی ’حزب اللہ‘ پر خطے میں غلبہ حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں‘۔

قبل ازیں 2016 میں ایران میں سعودی مشن پر مشتعل افراد کے حملے کے بعد لبنان کے وزیر خارجہ نے مذمت کرنے سے انکار کردیا تھا جس پر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک نے لبنان کا سفر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے لبنان میں جاری کشیدگی کے باعث وہاں سے تمام تر شہریوں کو فوری طور پر واپس آنے کا حکم جاری کردیا ہے جبکہ دبئی حکومت نے اپنی شہریوں کو سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔