Courtesy: ڈیلی پاکستان

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) دہائیوں سے لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا پاکستانیوں کے لیے ایک اور انتہائی تشویشناک خبر آ گئی ہے کہ 2ارب ڈالر(تقریباً2کھرب روپے) کی لاگت سے پاکستان میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے والی چینی کمپنی نے کام روک دیا ہے جس سے بجلی کی کمیابی کا مسئلہ سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

ڈیلی ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی لاہور سے مٹیاری تک 660کے وی ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ ٹرانسمیشن لائن بچھا رہی تھی۔ اس کے کام روکنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک کمپنی کے حکومت پاکستان کے ساتھ گردشی فنڈز کے حجم پر اختلافات ہیں۔’بھائی! ہمارا وزیراعظم کہاں غائب کردیا؟‘ وہ ملک جس کے صدر کو سعودی عرب فون کرکے یہ سوال پوچھنا پڑ گیا

رپورٹ کے مطابق لاہور تا مٹیاری ٹرانسمیشن لائن پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہے اور پاکستان کا پہلا ڈائریکٹ کرنٹ کا منصوبہ ہے۔یہ لائن 4ہزار میگا واٹ بجلی کی ترسیل کی صلاحیت رکھتی ہے۔پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے تحت فیصل آباد تا پورٹ قاسم بھی ایک ایسی ہی ٹرانسمیشن لائن بچھائی جانی تھی تاہم حکومت نے فیصلہ کیا کہ پہلی لائن کی تکمیل تک وہ اس کمپنی کے ساتھ اگلی ٹرانسمیشن لائن کا معاہدہ نہیں کرے گی۔ذرائع کے مطابق کام روکے جانے کی بڑی وجوہات میں سے ایک پاورپلانٹ کی تعمیر میں تاخیر بھی ہے۔