Courtesy: ڈیلی پاکستان


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمدسعید کا کہنا تھاکہ ایم کیوایم پاکستان بنانے میں ہمارا کوئی کردار نہیںاگر ان کی تشکیل رینجرز ہیڈکواٹرمیں ہوئی ہوتی تو آج ان پر مقدمات نہ ہوتے، 22 اگست کومیڈیاپرحملے کے بعدتمام افرادکوگرفتارکیا ان پر کیسز بنائے گئے جو آج تک چل رہ ہیں ،جس میں ہم اپنا پورا ان پٹ دے رہے ہیں ،اگر کسی سے کوئی نرمی والا معاملہ ہوتا تو ہم کیسز کی پیروی ہی نہیں کرتے،دس دن قبل بھی فاروق ستار اور عامرخان اپنے کیسز کی عدالتی کارروائی میں عدالت گئے تھے۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

نجی چینل ”دنیا نیوز“کے پروگرام ”دنیاکامران خان کے ساتھ“کے ساتھ خصوصی گفتگو میں ڈی جی رینجرزمیجر جنرل محمدسعید کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کافیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیاتھا ، کراچی میں روزانہ 8ٹارگٹ کلنگ اور2اغوابرائے تاوان کی وارداتیں ہوتی تھیں، کراچی میں روزانہ 8کروڑسے 10کروڑروپے بھتہ لیاجاتاتھا،لیکن اب شہر کے حالات یکسر تبدیل ہیں۔

ڈی جی رینجرز سندھ کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے شہر کا امن سب سے اہم ہے ہم نہیں چاہتے کہ شہر اپناماضی دہرائے اس مْقصد کے لئے ہمارا ہر سٹیک ہولڈر سے رابطہ رہتا ہے ،شہر کے اندر اگر کوئی بھی تھریٹ ہو تو ملاقاتوں کایہ سلسلہ بڑھ بھی جاتا ہے ۔کون سی جماعت کس کے ساتھ کس کے ساتھ ضم ہونا چاہتی یاکوئی سیاسی اتحادبناناچاہتی ہے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہمارا مقصد صرف شہر کے امن کوبرقرار رکھنا ہے ،ہمارے سیاسی جماعتوں سے رابطے کی بڑی وجہ ہمارے پولیس والے اختیارات بھی ہیں،جس کی وجہ سے ہمیں ان سے ملنے پڑتا ہے۔

پی ایس پی اور ایم کیوایم ضم ہوں یا الگ الگ سیاست کریں ،تصادم نہیں ہونا چاہیے :ڈی جی رینجرز

مصطفی کمال کی پارٹی کے 70افراد کو رہا کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ شہر میں کوئی بھی سانحہ یاکوئی واقعہ ہوجائے تو اس امر میں کئی گرفتاریا ں ہوجاتی ہیں ،لیکن وہ سب مجرم تو نہیں ہوتے ،تفتیش کے بعد24گھنٹے کے اندر ہم ان افراد کو چھوڑ دیتے ہیں جو ہمیں مطلوب نہیں ہوتے ،لیکن ان کو رہا کرنے سے پہلے ہم ان کے والدین اور جس سیاسی جماعت سے اس کا تعلق ہوتا ہے تو ان کو بلالیتے ہیں ،جس میں ان سے انڈرٹیکنگ لی جاتی ہے جس میں گرفتار شخص کا میڈیکل لف ہوتا ہے،اس حوالے سے ہم سے میڈیاکاکوئی بھی نمائندہ آڈٹ کرنا چاہتا ہے تو ہم اسے خوش آمدید کہیں گے۔

عزیر بلوچ کا کیس فوجی عدالت میں بجھوانے یانہ بجھوانے کا حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ رینجرز کی تحویل میں نہیں ہیں، میں اس حوالے سے کیا کہ سکتا ہوں ۔ڈی جی رینجرز کہتے ہیں کہ لیاری گینگ وار کا اب خاتمہ ہوگیا ،اب وہاں ایک ،ایک ماہ تک سپورٹس ایکٹیوٹیز ہورہی ہیں جو امن کی علامت ہیں،آپ لیاری میں جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں ،اس سے قبل لیاری کے جرائم پیشہ افراد پورے شہر کے امن کو خراب کرتے تھے۔

ایم کیوایم پاکستان کی تشکیل کے حوالے سے میجر جنرل محمد سعید کا کہنا تھا ک۔
ڈی جی رینجرز میجر جنر ل محمدسعید کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے جونمائندے 2013 میں تھے ا ب بھی وہی ہیں،انٹیلی جنس کے جونمائندے ر ابطے میں ہیں،وہ تبدیل نہیں ہوئے رینجرزآپریشن کیلئے ہوم ورک اورانٹیلی جنس اطلاعات ہوتی ہیں،رینجرزسول اورملٹری انٹیلی جنس اداروں کی مددکے بغیرنہیں چل سکتی۔