Courtesy: ڈیلی پاکستان

نئی دہلی(کے پی آئی) بھارت لائن آف کنٹرول اورلائن آف ایکچول کنٹرول ، ورکنگ باونڈری اور پاکستان سے لگنے والی بین الاقوامی سرحد کی نگرانی کے لیے ڈرون طیارے بھی استعمال کرے گا، اس سلسلے میں بھارتی فوج کو جلد ہی 600 ڈرونزسے لیس کیا جائے گا۔ بھارتی اخبار کے مطابق تقریبا 950 کروڑ رو پے کی لاگت سے خریدے جا نے والے یہ ڈرون اگلی چوکیوں پر تعینات تمام بٹالین کوسونپے جائیں گے۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

چار سے پانچ ہزار میٹر اونچائی تک پرواز کرنے والے یہ ڈرون تقریبا ً10 کلومیٹر کے دائرے میں چپے چپے پر نظر رکھیں گے اور بٹالین کمانڈر کو ان کی مسلسل تصاویر بھیجیں گے۔ تمام فارورڈ بٹالین کے ساتھ ہی انسداد دہشت گردی آپریشن میں مصروف نیشنل رائفلس کو بھی یہ ڈرون دیئے جائیں گے۔ سکم کے سرحدی علاقہ ڈوکلام میں چینی فوج کے ساتھ حال ہی میں ہونے والے تنازعے اور سرحد پار سے دراندازی کے واقعات کے پیش نظر انفینٹری بٹالین کو ڈرون طیاروں سے لیس کئے جانے کو کافی اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

چند مہینوں میں پاکستان کی سرحد سے دراندازوں اور خاص طورپر سرحدی ایکشن ٹیم (بیٹ) کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق ہائی ٹیک ڈرون طیاروں سے دراندازوں کو بہ آسانی پکڑا جا سکتا ہے جبکہ اس پار کشمیر میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت پر بھی گہری نظر رکھی جائے گی۔ ایک بٹالین کو ایک بغیر پائلٹ طیارہ فراہم کیا جائے گا۔