Courtesy: ڈیلی پاکستان

جسٹس شاہد کریم نے یہ حکم ایم سی بی بینک کی جانب سے دائر درخواست پر دیا ہے، بینک کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھاکہ اتفاق ٹیکسٹائل ملز کے مالکان نے کاروبار کے لئے قرض حاصل کیا اور 27 کنال ایک مرلہ پر مشتمل اتفاق ٹیکسٹائل ملز رہن رکھوائی۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

بینک کے مطابق ڈیفالٹر میاں ہارون یوسف، میاں یوسف عزیز، کوثر یوسف، سائرہ فاروق، عائشہ ہارون نے قرض کے لئے گارنٹی بھی دی تاہم مذکورہ بالا قرض کی رقم واپس نہیں کی گئی، قرض کی عدم ادائیگی پر اتفاق ٹیکسٹائل ملز کو 2000ءمیں ڈیفالٹر قرار دیا گیا، ڈیفالٹر اتفاق ٹیکسٹائل ملز کے خلاف 2016ءسے 25 کروڑ 33 لاکھ 64 ہزار کی ڈگری بھی جاری ہو چکی ہے۔

عدالتی ڈگری کے بعد اتفاق ٹیکسٹائل ملز مالکان نے14 کروڑ 32 لاکھ 69 ہزار ادا کئے تاہم اتفاق ٹیکسٹائل ملز نے ڈگری کی بقایا 11 کروڑ 95 ہزار کی رقم ادا نہیں کی ،رقم کی ریکوری کے لئے اتفاق ٹیکسٹائل ملز کو نیلام کرنے کا حکم دیا جائے ، عدالت نے حکم دیا کہ ملز کی جانب سے رہن رکھی گئی زمین کی نیلامی کے لئے 15 دسمبر کو کارروائی کا آغازکیا جائے ۔