Courtesy: ڈیلی پاکستان

اسلام آباد (ویب ڈیسک)حکومت کا قرضوں پر انحصار ، قرضوں کا حجم ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا،مسلم لیگ نواز کے چار سالہ دورحکومت میں قرضوں کے بوجھ میں 11 ہزار ارب روپے کے اضافہ کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد مجموعی قرضے 25 ہزار ارب روپے سے بھی تجاوز کرگئے۔ سٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق ملکی قرضوں کا بوجھ 16 ہزار 152 ارب روپے ہو گیاجبکہ غیر ملکی قرضے 9 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے” ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا کے مطابق مسلم لیگ ن نے جب جون 2013میں اقتدار سنبھالا تو ملکی وغیر ملکی قرضوں کا حجم 14 ہزار 318 ارب روپے تھا یہ قرضے اب 25ہزار ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ایس بی پی کی دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت کے چار سالوں میں ملکی قرضوں میں ساڑھے چھ ہزار ارب جبکہ غیر ملکی قرضوں میں 4 ہزار ربروپے کاریکارڈ اضافہ ہواہے۔ مشرف دور میں مجموعی قرضوں میں 3ہزار 200 ارب ، پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور میں 8 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہواتھا۔

بہاولپور میں شادی، سہاگ رات کے اگلے دن دلہن اپنے کمرے میں گئی تو دولہا کیا کررہاتھا؟ دیکھ کر واقعی پیروں تلے زمین نکل گئی، کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ ۔ ۔ ۔دستاویز کے مطابق1999میں قرضوں کا مجموعی حجم 2ہزار 946ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضے 1ہزار 389ارب اور غیر ملکی قرضے 1ہزار 557ارب روپے تھے۔

2008تک قرضوں کا مجموعی حجم 6ہزار 126ارب روپے تھاجس میں ملکی قرضے 3ہزار 275ارب اورغیر ملکی قرضے 2ہزار 852ارب روپے تھے۔موجودہ قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چا ہئے مگر اس وقت قرضے تقریباً 65فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ جو فسکل ریسپانسی بلیٹی اینڈ ڈیٹ لیمیٹیشن ایکٹ 2005کی خلاف ورزی ہے۔واضح رہے کہ 1971میں قرضوں کا مجموعی حجم محض 30ارب روپے تھا جو1990تک بڑھ کر711ارب روپے اور1996میں مزید اضافہ کیساتھ 1ہزار 704ارب روپے ہوگیاتھا۔