Courtesy: ڈیلی پاکستان

شارجہ(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک جانب تو اخلاقی زوال کا یہ عالم دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک ساتھ رہنے اور کام کرنے والے گمشدہ چیز ایک دوسرے کو لوٹانے کی زحمت نہیں کرتے لیکن دوسری جانب ایمانداری کی ایسی مثال کہ ایک ملک میں گم ہونے والی قیمتی چیز دوسرے ملک میں اس کے مالک کو پہنچا دی گئی۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

یہ حیرت انگیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب متحدہ عرب امارات سے آسٹریا کی سیر کو جانے والی ایک خاتون وہاں اپنا موبائل فون وہاں گما بیٹھی، اور پھر کچھ دن بعد ایک اور اماراتی خاتون اس کا موبائل فون لے کر اس کے پیچھے پیچھے شارجہ آن پہنچی۔وہ ہوٹل جہاں آپ پیسے دے کر مچھلی کے ساتھ رات گزار سکتے ہیں، لیکن کیوں؟

جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گےخلیج ٹائمز کے مطابق گمشدہ موبائل فون آسٹریا میں موجود اماراتی خاتون کو ملا تو اس نے اسے پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے فیصلہ کیا کہ وہ واپس جا کر خود اسے اصل مالک کے حوالے کرے گی۔جب وہ متحدہ عرب امارات واپس پہنچی تو پولیس سے رابطہ کیا تاکہ موبائل فون کے مالک کو تلاش کیا جائے۔ شارجہ پولیس کے سینئر افسر کرنل بن درویش نے بتایا کہ پولیس نے بالآخر موبائل فون کے مالک کو ڈھونڈ لیا،

جو کہ ایک خاتون تھی جو چند دن پہلے ہی آسٹریا میں چھٹیاں گزار کر واپس آئی تھی۔ اسے جب معلوم ہوا کہ آسٹریا میں گم ہونے والا اس کا فون واپس شارجہ پہنچ چکا ہے تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا تھا۔ اس نے فون واپس کرنے والی خاتون کی دیانتداری کو بے حد سراہا اور اسے ایک قابل تقلید مثال قرار دیا۔ شارجہ پولیس کی جانب سے بھی ایماندار خاتون کے لئے نقد انعام اور تعریفی سند کا اعلان کیا گیا ہے۔