Courtesy: ڈیلی پاکستان

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی شہر النمس وہ بدقسمت مقام ہے جسے زلزلے جیسی خوفناک آفت نے گھیر لیا ہے اور گزشتہ چند دنوں کے دوران ہی اتنی بڑی تعداد میں زلزلے آئے ہیں کہ ماہرین ارضیات بھی حیرت زدہ رہ گئے ہیں۔

اگر آپ سوچتے ہیں کوئی کمپنی خرد برد اور کرپشن سے پاک ہے تو یہ آپ کا وہم ہے- اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فراڈ اور ہیرا پھیری کا کچھ نہیں کیا جا سکتا تو یہ آپ کا وسوسہ ہے" ، ڈاکٹر صداقت علی بتاتے ہیں دو سنہری روئیے جو کمپنیوں میں کرپشن، خرد برد اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

سعودی گزٹ کے مطابق اس شہر میں جمعہ کے روز ایک بار پھر زلزلہ آیا ہے اور یوں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہاں 35ویں بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔
النمس شہر جنوبی صوبے عسیر میں واقع ہے۔ جمعہ کے روز آنے والے زلزلے کا مرکز اس شہر سے 16 کلومیٹر کی دوری پر شمال مغرب میں واقعہ تھا۔

سعودی عرب کی سرحد پر اب ایران کیا چیز تعمیر کر رہا ہے؟ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ کھلبلی مچ گئیتین نومبر سے شروع ہونے والا زلزلوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ دن یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ماہرین کے مطابق زیر زمین تبدیلیوں میں وقت گزرنے کے ساتھ استحکام آتا جائے گااور مزید کچھ دن تک زلزلے کے جھٹکوں کی شدت کم ہوجائے گی۔ سب سے زوردار جھٹکا 3 نومبر کے دن ہی محسوس ہوا تھا۔ اس کے بعد سے جھٹکوں کی شدت میں بتدریج کمی آرہی ہے۔

ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اس خطے کے نیچے تین فالٹ لائنیں واقع ہیں، جو پے درپے زلزلوں کا سبب بن رہی ہیں۔ ان میں سے دو شمال اور شمال مغرب میں بحیرہ احمر کے متوازی جبکہ تیسری شہر کے شمال مشرق میں ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہاں آنے والے زلزلوں میں تین کلومیٹر کی دوری پر واقع ہلبہ ڈیم کا کردار بھی ہوسکتا ہے، البتہ آتش فشاں کی وجہ سے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے نظریے کو سائنسدانوں نے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شہر کے اتنا قریب کوئی بھی آتش فشاں واقع نہیں ہے جو زلزلوں کا سبب بن سکے۔ دریں اثناءعوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین کرنے کی بجائے متعلقہ محکمے کی ویب سائٹ سے مصدقہ معلومات حاصل کریں۔