کیپٹن مہر گل کی سربراہی میں جیونی کے قریب سمندر میں جانے والی ماہی گیروں کی ٹیم نے دو اسپرم وہیل کو دیکھا جنہیں اس سے قبل پاکستان کی حدود میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ ماہی گیروں کے مطابق انہوں نے سمندر میں دونوں وہیلز کا ڈیڑھ گھنٹے تک معائنہ کیا جس کے بعد دونوں وہیلز غوطہ لگا کر سمندر کے اندر چلی گئیں۔

“میں نے تجربے سے سیکھا ہے کہ مجھے زندگی میں کسی ایکسکیوز کے پیچھے نہیں چھپنا” طٰہ صداقت Ceo ولنگ ویز “مجھے یقین ہے کہ زندگی میں آخرکار آپ وہ کر گزرتے ہیں جوآپ کرنا چاہتے ہیں”

Posted by Willing Ways on Tuesday, October 3, 2017

خیال رہے کہ اس سے قبل دسمبر 2005 میں کراچی سے کچھ دور سنہرا کے ساحل پر اسپرم وہیل کا ڈھانچہ دیکھا گیا تھا۔ اسپرم وہیلز کو ان کی جسمانی ساخت کی وجہ سے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے، ان کا سر بہت بڑا اور گول ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی پہچان لی جاتی ہیں۔ یہ وہیل دنیا کے تقریباً تمام بڑے سمندروں میں پائی جاتی ہے۔

اسپرم وہیل کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان کا دماغ دنیا کے تمام جانداروں میں سب سے بڑا ہوتا ہے۔ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم خان نے کیپٹن مہر گل کی کوشش کو سراہا جنہوں نے اسپرم وہیل کا تعاقب کیا اور ان کی ویڈیو بھی محفوظ کی۔ انہوں نے بتایا کہ ویڈیو میں وہیل مچھلیوں کے غوطہ لگانے کے انداز سے پتا لگتا ہے کہ یہ دونوں بالغ وہیلز تھیں جن کی لمبائی 10 میٹر سے زیادہ تھی۔

Courtesy: ایکسپریس