ہائی کورٹ نے ڈینگی سے نمٹنے میں خیبرپختون خوا حکومت کی کارکردگی کو بدترین قرار دے دیا۔

پشاور ہائی کورٹ میں ڈینگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے تاخیر سے پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس قیصر رشید نے اپنے ریمارکس میں ڈینگی پر قابو پانے میں صوبائی محکمہ صحت کی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرکے انسانی جانوں پہ ظلم کیا گیا۔

“میں نے تجربے سے سیکھا ہے کہ مجھے زندگی میں کسی ایکسکیوز کے پیچھے نہیں چھپنا” طٰہ صداقت Ceo ولنگ ویز “مجھے یقین ہے کہ زندگی میں آخرکار آپ وہ کر گزرتے ہیں جوآپ کرنا چاہتے ہیں”

Posted by Willing Ways on Tuesday, October 3, 2017

سیکرٹری صحت عابد مجید نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ صحت ڈینگی پر قابو پانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کر رہا ہے اور تمام اسپتالوں میں بروقت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے تاہم ڈینگی کا مچھر پانچ سال تک ختم نہیں کیا جاسکتا۔

ڈپٹی کمشنر ثاقب رضا اسلم نے بتایا کہ 21 اگست سے ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے، متاثرہ علاقوں میں اسپرے کیا جا رہا ہے، ہم نے پنجاب سے تعاون مانگا تھا کہ ہماری کارکردگی کو جانچا جائے، وفاقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہماری کوششوں سے مرض کم ہوا۔

عدالت نے حکم دیا کہ ڈینگی کے خاتمے کے لیے جہاں سے مدد مل سکتی ہے لی جائے، خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا اب یہاں کے عوام ڈینگی سے متاثر ہو رہے ہیں، انہیں مزید تکلیف سے بچایا جائے، اگلے سال ڈینگی کی روک تھام کے لیے ابھی سے کوشش شروع کی جائے اور فنڈز مختص کیے جائیں، ڈینگی کے لاروا کو تلف کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، مساجد اور گھروں میں لوگوں کو اس حوالے سے شعور آگاہی فراہم کی جائے۔

Courtesy: جاوید چودھری ڈاٹ کام