پاکستان کی ہونہار کارٹونسٹ نے دنیا کی طویل ترین کامک اسٹرپ (طومار) بنا کر عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔

بیس سالہ عنیزہ علی برلاس نے اس سال 12 مارچ کو ایک طویل کاغذی پٹی پر مسلسل کارٹون بنایا جسے اب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے دنیا کی سے سے لمبی کامک اسٹرپ کا اعزاز دیا گیا ہے۔ کامک اسٹرپ کی لمبائی 267.38 میٹر یعنی 877 فٹ ہے جس کا مشاہدہ چار آفیشلز نے کر کے اسے طویل ترین کامک اسٹرپ قرار دیا۔ اس کامیابی کے بعد عنیزہ نے بھارتی فنکار سوہاس پالمکر کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے حکام نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

عنیزہ نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کارٹون بنانے کا جنون ہے اور وہ پاکستان کی 70 ویں سالگرہ پر کوئی خاص کام کرنا چاہتی تھیں۔ پھر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی ویب سائٹ دیکھتے ہوئے وہ اپنے شعبے سے متعلق کوئی ریکارڈ بنانے کی خواہشمند تھیں اور ایک جگہ انہیں بھارتی فنکار کے طویل ترین کامک اسٹرپ کا علم ہوا تو انہوں نے یہ چیلنج قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہائی اسکول کی تعلیم ختم کرنے کے ایک سال کے وقفے میں عنیزہ نے اس پر کام کیا اور ایک سال کی محنت میں مسلسل کاغذ کاٹ کر جوڑتی رہیں اور کارٹون بناتی رہیں۔ بقول عنیزہ خاکوں کے طومار کو گنیز بک افسران کے سامنے کھولنے اور رکھنے کے لیے 50 افراد نے مدد کی۔

طویل ترین کامک اسٹرپ کو ’دی ایگزٹ‘ یا باہر کے راستے کا نام دیا گیا ہے جس میں نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام ہے۔ عنیزہ نے بتایا کہ ابتدا میں میرے والدین کو اس کا اندازہ نہ تھا لیکن جوں جوں لپٹے کاغذ بنتے گئے اور کہانی آگے بڑھی تو انہوں نے میری تائید شروع کردی۔

عنیزہ نے فن برائے انسانیت نامی فلاحی تنظیم بھی بنا رکھی ہے اور انہوں نے ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے فنڈ جمع کرنے میں بھی اپنا اہم کردار ادا کیا۔
ایگزٹ کی کہانی

کامک اسٹرپ ’ایگزٹ‘ کی کہانی جیک نامی ایک شخص کے گرد گھومتی ہے جو اپنی زندگی سے تنگ ہوتا ہے۔ جیک سمجھتا ہے کہ بلیک اینڈ وائٹ فریم میں رہنا کوئی خوشی کی بات نہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ کاغذ سے باہر کی زندگی بہتر ہے۔ وہ باہر نکلنے کے کئی منصوبے بناتا ہے لیکن ناکام ہوجاتا ہے۔ پھر اسے خیال آتا ہے کہ زندگی خود شناسی اور خود قدری معلوم کرنے کا نام ہے۔

کامک اسٹرپ کا پیغام یہ ہے کہ خواب و خیال کی دنیا میں رہنے کی بجائے خود اپنے اندر جھانکنا چاہیئے اور آپ کے پاس جو کچھ ہے اس سے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

Courtesy: ایکسپریس